عمران خان کی حمایت میں امریکی خط پاکستان کے معاملات میں مداخلت ہے:پاکستان علماءکونسل

پاکستان علماءکونسل کی مذمت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان علماءکونسل نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حمایت میں امریکی نمائندگان کے خط کی بھرپور مذمت کی، جسے پاکستان کے داخلی معاملات میں براہ راست مداخلت قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ڈیجیٹل ڈاکوؤں کی انٹری، جیمرز استعمال کرکے متعدد وارداتوں کا انکشاف، پولیس سراغ نہ لگا سکی
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا بیان
چیئرمین پاکستان علماءکونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی ایوانِ نمائندگان کا خط پاکستان کے داخلی معاملات میں براہ راست مداخلت ہے اور پاکستان علماءکونسل اس خط کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خط پی ٹی آئی کے منافقانہ رویے اور پالیسی کا ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ثانیہ عاشق کا بریل پرنٹنگ پریس لاہور کا دورہ، نابینا طلباء کیلیے معیاری تعلیمی مواد کی فراہمی پر زور
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے افسوس کا اظہار کیا کہ امریکی ایوان نمائندگان کے اراکین مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خصوصاً ہزاروں فلسطینیوں کی شہادت اور لاکھوں بے گھر افراد کے بارے میں خاموش ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت پاکستان، عوام، سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے مسائل خود حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ کا اجلاس بغیر کارروائی کے ختم، کل دوبارہ ہوگا
خط کی خودمختاری کی خلاف ورزی
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مذکورہ خط اور اس کے مندرجات بے شک پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں، اور یہ صرف اور صرف صیہونی طاقتوں کے ایما پر لکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علماءکونسل اور عوام کسی بھی مہم کا بھرپور جواب دیں گے۔
امریکی ایوان نمائندگان کا خط
واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کے 60 سے زائد ارکان نے صدر جو بائیڈن کو ایک خط میں سابق وزیراعظم عمران خان سمیت پاکستان میں 'سیاسی قیدیوں' کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس خط میں درجنوں کانگریس مین کے دستخط موجود ہیں جو امریکی صدر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے حوالے سے انسانی حقوق کو مرکزی حیثیت دی جائے۔