مفتی طارق مسعود پر فائرنگ کی اطلاعات کی حقیقت سامنے آگئی
فائرنگ کی جھوٹی خبریں
کراچی میں معروف عالم دین مفتی طارق مسعود کی گاڑی پر فائرنگ کی خبریں وائرل ہوئی ہیں۔ پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز کیا، لیکن یہ اطلاع جھوٹی نکلی۔ خود مفتی طارق مسعود نے اپنی گاڑی پر فائرنگ اور ڈرائیور کی شہادت کی خبروں کی تردید کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج کا حماس کے سینئر رہنما عز الدین قصاب کو شہید کرنے کا دعویٰ
معلومات کا بنیادی ماخذ
آج نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر زیر گردش اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مفتی طارق مسعود کی گاڑی پر کراچی کے علاقے گھگھر پھاٹک کے قریب فائرنگ کی گئی ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں ڈرائیور جاں بحق اور مفتی طارق مسعود شدید زخمی ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹینس سپرسٹار رافیل نڈال نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا
صارفین کے ردعمل
فائرنگ کی خبروں پر بعض صارفین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو یہ گاڑی مفتی طارق مسعود کی ہے اور نہ ہی کوئی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ دراصل یہ خبر جھوٹی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بختاور بھٹو نے اپنے تیسرے بیٹے کا نام کیا رکھا؟
مفتی طارق مسعود کا بیان
ایک صارف نے لکھا کہ مفتی طارق مسعود پر حملے اور ان کی گاڑی پر فائرنگ کی جو خبر سوشل میڈیا پر چلائی جا رہی ہے، وہ بےبنیاد ہے۔ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں، الحمدللہ مفتی صاحب خیریت سے ہیں۔
مفتی طارق مسعود کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’میرے اوپر حملے کی افواہیں گردش میں ہیں، اللہ کے فضل سے بالکل خیریت سے ہوں۔ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔‘
پولیس کا کردار
دوسری جانب پولیس حکام نے کراچی میں علماء کرام پر قاتلانہ حملے کی جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ایف آئی اے سے رابطہ کیا ہے تاکہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ افواہیں پھیلانے والے تمام اکاؤنٹ ایف آئی اے کو فراہم کیے جائیں گے۔ حالیہ دو روز سے ملیر کے مختلف علاقوں میں علماء کی گاڑی پر فائرنگ کی جھوٹی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر کئی علماء کی تصاویر اور گاڑی پر فائرنگ کی جھوٹی تصویریں وائرل کی جا رہی ہیں۔ ایسے تمام شر پسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔