معیشت درست سمت پر گامزن، مہنگائی کم اور معاشی سرگرمیاں بحال ہورہی ہیں: گورنر سٹیٹ بینک
گورنر سٹیٹ بینک کا بیان
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن ) گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ معیشت درست سمت پر گامزن ہے جبکہ مہنگائی کم اور معاشی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: ڈکی بھائی نے یاسر شامی کو سب کچھ بتادیا، سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں، ظلم کی خوفناک داستان
ورلڈ بینک کے اجلاس میں شرکت
واشنگٹن میں گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کی آئی ایم ایف اور عالمی سرمایہ کاروں سے ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ملاقات ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف نے اپنے ارکان کی رکنیت معطلی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا
بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں سے ملاقات
گورنر سٹیٹ بینک کی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں سے بھی ملاقات ہوئی جہاں جمیل احمد نے گزشتہ سال پاکستان کے معاشی انڈیکیٹرز میں نمایاں بہتری کا جائزہ پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پب جی گیم سے متاثر ہوکر گھر والوں کو قتل کرنے والے ملزم کو 100 سال قید کا حکم
اقتصادی چیلنجز اور ان کا حل
اس موقع پر گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان سمیت عالمی اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو چیلنجز درپیش ہیں، معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے سخت پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ کی آڑ میں بھارت نے جارحیت کا راستہ اختیار کیا، افواج پاکستان نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، وزیراعظم شہبازشریف
حکومتی اقدامات کا اثر
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی مالیاتی یکجائی نے معاشی استحکام بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا، سٹیٹ بینک اور حکومت دونوں نے استحکام کے لئے اہم اقدامات پر عمل کیا، ان اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کا سندھ ہائی کورٹ کے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ دوبارہ منعقد کرانے کے حکم کا خیرمقدم
مہنگائی میں کمی
جمیل احمد کا کہنا تھا کہ مہنگائی عروج پرپہنچنے کے بعد اب واضح طورپر نیچے جارہی ہے، معاشی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں، معیشت درست سمت میں گامزن ہے، مئی 2023 میں مہنگائی38 فیصد تھی، 2024 میں 6.9 فیصد رہ گئی، مشکل حالات کے باوجود پچھلے 12 ماہ کے دوران بیرونی کھاتہ خاصا بہتر ہوا۔
بیرونی جاری خسارے میں کمی
گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ بیرونی جاری خسارہ بھی نمایاں طور پرکم ہوا، رقوم کی آمد میں بہتری نے سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 11ارب ڈالر تک پہنچا دیے، سٹیٹ بینک کا ہدف زرمبادلہ ذخائر کو جون 2025 کے آخر تک 13 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔








