قاضی فائز عیسیٰ نے منفرد اعزاز اپنے نام کرلیا
سابق چیف جسٹس کی برطانیہ روانگی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ برطانیہ کی قدیم ترین قانونی درسگاہ مڈل ٹیمپل میں ان کے اعزاز منعقدہ تقریب میں شرکت کیلئے بیرون ملک روانہ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے معروف گلوکار ٹریفک حادثے میں جاں بحق
مڈل ٹیمپل میں اولین شخصیت
جیونیوز کے مطابق قاضی فائز عیسیٰ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی پہلی شخصیت ہیں جنہیں مڈل ٹیمپل میں بطور بینچر منتخب کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سیلاب سے 2200 دیہات زیر آب، 20 لاکھ افراد متاثر، اموات 33 ہوگئیں
تقریب کی دعوت
سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اس سال مئی میں تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ قاضی فائز عیسیٰ نے اسی عظیم قانونی درسگاہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی اور ان کے والد قاضی عیسیٰ بھی مڈل ٹیمپل کے گریجویٹ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اب دو نہیں، ایک بار میں تناؤ پیدا ہوگا: پاکستانی فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے اثرات کیا ہوں گے؟
تقریب کی تاریخ طے کرنا
قاضی فائز عیسیٰ نے مڈل ٹیمپل کی انتظامیہ کو لکھا تھا کہ وہ 25 اکتوبر کو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ہی شرکت کر سکتے ہیں جس پر ان کے اعزاز میں تقریب کی تاریخ 29 اکتوبر مقرر کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: صدر نے عالمی چیمپئن زیب رند کو 10 کروڑ روپے کا چیک دیدیا
مڈل ٹیمپل کا تعارف
مڈل ٹیمپل (Middle Temple) لندن کی چار تاریخی اور معتبر قانونی اداروں میں سے ایک ہے جنہیں Inns of Court کہا جاتا ہے۔ ان اداروں میں قانون کے طلبہ کو تربیت دی جاتی ہے اور وکالت میں داخلہ کیلئے لائسنس دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا رکن پنجاب اسمبلی عرفان شفیع کھوکھر کے انتقال پر اظہار افسوس
تاریخی اہمیت
مڈل ٹیمپل کی بنیاد 14ویں صدی میں رکھی گئی تھی، اور یہ صدیوں سے برطانوی قانونی نظام کے مرکز میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی نژاد امریکیوں کی شہریت منسوخ کرنے کی تیاریاں تیز کر دیں
وکلا کی تربیت
یہ ادارہ وکلا کو بار میں شمولیت کیلئے تربیت اور لائسنس فراہم کرتا ہے۔ اس کے ممبران میں نہ صرف برطانوی بلکہ عالمی سطح پر کئی اہم قانونی شخصیات شامل رہی ہیں۔ مڈل ٹیمپل کے گریجویٹس میں سر تھامس مور، ایڈمنڈ برک اور مہاتما گاندھی جیسی اہم شخصیات شامل ہیں۔
تعلیمی معیار
مڈل ٹیمپل میں تعلیمی نظام انتہائی سخت اور معیار میں اعلیٰ ہوتا ہے۔ یہ اپنے طلبہ کو قانونی مہارتوں کے علاوہ عدالتی معاملات کی عملی تربیت بھی فراہم کرتا ہے جس سے وہ پیشہ وارانہ دنیا میں کامیابی سے قدم رکھ سکیں۔








