دنیا ایران پر حملے کے لیے اسرائیلی طیاروں نے کہاں سے پرواز بھری؟ ایران کا دعویٰ سامنے آگیا
ایرانی مشن کا اسرائیل پر حملوں کا الزام
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی مشن برائے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کے لیے اسرائیلی جنگی طیاروں نے عراق میں واقع امریکی فوجی بیس سے پروازیں بھریں۔
یہ بھی پڑھیں: اگست میں شدید گرمی کی پیش گوئی،گرمیوں کی چھٹیوں میں 15سے 20روز اضافے کی درخواست
امریکہ کی شمولیت کا الزام
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی مشن برائے اقوام متحدہ نے ایران پر اسرائیلی حملے میں امریکا کو برابر کا ذمے دار قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی بیٹوں سے بات کروا دی گئی اور اخبارات بھی فراہم کر دیئے گئے
حملوں کی تفصیلات
ایرانی مشن برائے اقوام متحدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملے کے لیے اسرائیلی جنگی طیاروں نے عراق میں واقع امریکی فوجی بیس سے اڑان بھریں۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی کے واقعات میں میرا نام شامل کرنے کے لیے پولیس پر دباؤ ہے، ہماری کارکردگی نہ ہوتی تو تیسری بار حکومت نہ ملتی؛ سہیل آفریدی
امریکی میڈیا کی رپورٹیں
دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے پاسداران انقلاب کےکم ازکم 3 میزائل اڈوں کو نشانہ بنایا، تہران کے قریب امام خمینی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے ایس 300 ڈیفنس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ امریکی میڈیا کا بتانا ہے کہ اسرائیلی ڈرونز نے تہران اور مضافات میں پارچن ملٹری بیس اور ڈرون فیکٹری پر بھی حملے کیے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم سے پیپلزپارٹی وفد کی ملاقات، ملک کی مجموعی سیاسی صورتِ حال، پارلیمان میں قانون سازی سے متعلق امور
ایرانی دعویٰ
ادھر ایران نے حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنے 4 فوجیوں کے جاں بحق ہونے اور معمولی نقصان کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مادرِ جمہوریت نصرت بھٹو کو دنیا سے رخصت ہوئے 14 برس بیت گئے
اسرائیلی فوج کا دعویٰ
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران پر حملے میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور 20 ملٹری سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ واضح رہے کہ یکم اکتوبر کو ایران کی جانب سے اسرائیل پر براہ راست سینکڑوں میزائل داغے گئے تھے، بعد ازاں اسرائیلی فوج نے اسرائیل پر ایران کے میزائل حملوں کے دوران اسرائیلی فضائی اڈوں پر میزائل گرنے کی تصدیق کردی تھی۔
نقصانات کی تصدیق
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ایرانی میزائل کچھ اسرائیلی فضائی اڈوں پر گرے ہیں، میزائل گرنے کے نتیجے میں فضائی اڈوں کی انتظامی عمارتوں اور جہازوں کی مرمت کی جگہوں کو نقصان پہنچا ہے۔








