غزہ میں ہسپتال ڈائریکٹر کا بیٹا شہید، والد جنازہ پڑھاتے روتے رہے

غزہ میں ہونے والا فضائی حملہ
غزہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ کے شمال میں واقع کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابوصفیہ کا جوان سال بیٹا ابراہیم بھی اسرائیلی حملے میں شہید ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین اور بچوں پر تشدد کرنیوالوں سے نرمی نہیں برتی جائے گی: گھریلو تشدد کی شکار 13سالہ بچی سے چیئرپرسن ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی ملاقات
نسل کشی کا سلسلہ جاری
اسرائیل کی جانب سے شمالی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے اور چند روز میں ہی اسرائیلی غاصب فورسز نے محاصرے میں سینکڑوں فلسطینیوں کو شہید کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے ڈبل ٹیکسشین ٹریٹی نظر ثانی کیس کی سماعت کے لیے 3 رکنی بینچ تشکیل دیا
ہسپتال پر حملہ
رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز شمالی غزہ میں اسرائیل نے کمال عدوان ہسپتال پر حملہ کرکے جنریٹر اور آکسیجن پلانٹ تباہ کردیے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے ہسپتال سے طبی عملے اور کئی مریضوں کو گرفتار کرلیا اور ادویات بھی تباہ کر دیں تاکہ زخمیوں کو نہ بچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: زیرِ زمین غیرقانونی سونے کی کانیں: یہ خطرناک کام ہے مگر 15 دنوں میں 1100 ڈالر اور سونے کا کچھ حصہ حاصل ہوتا ہے
ڈاکٹر حسام کی ذاتی نقصان
اسرائیلی فوج نے کمال عدوان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابوصفیہ کے جوان سال بیٹے ابراہیم کو بھی شہید کردیا۔ بیٹے کی نماز جنازہ ڈاکٹر حسام ابوصفیہ نے ہسپتال کے احاطے میں ہی ادا کی اور اس دوران جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور روتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی کے میچ کن شہروں میں ہونے کا امکان ہے ؟
ویڈیو کا وائرل ہونا
فلسطینی صحافی کی جانب سے ویڈیو ایکس پر پوسٹ کی گئی جو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
شہادتوں کی تعداد
واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک 42 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی شامل ہیں۔