پرویز مشرف نے وزیراعظم کو برطرف کرنے کا اقدام کیا تو چیف جسٹس نے فُل کورٹ کے ہمراہ کیس کی سماعت کی اور اس تبدیلی کو کامیاب انقلاب تسلیم کر لیا
مصنف کا تعارف
جسٹس (ر) بشیر اے مجاہد
یہ بھی پڑھیں: واہگہ بارڈر پاکستانی شہریوں کے لیے کھلا رہے گا، دفتر خارجہ کی بھارتی میڈیا رپورٹس کی تردید، وضاحت آگئی
قسط: 66
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے نئے کرنسی نوٹوں پر شیخ مجیب کی تصویر ہٹا کر کس کی لگا دی؟ حسینہ واجد کو ایک اور جھٹکا
کارگل کی جنگ کا پس منظر
کارگل پر ہونے والی جنگ کے بارے میں بھارتی فلم انڈسٹری نے بیسیوں فلمیں بنائی ہیں، اور پاکستان میں بھی ذرائع ابلاغ نے اسے پاکستان کی شکست اور بھاری جانی و مالی نقصان کے طور پر بیان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سے شہریوں کے اغوا اور تاوان طلب کیے جانے کا معاملہ، لڑکی سمیت پولیس اہلکار کے بھی ملوث ہونے کا انکشاف
وزیراعظم کا کردار
وزیراعظم کی حیثیت سے میاں نواز شریف کو چاہئے تھا کہ وہ اس کی انکوائری کے لئے ایک اعلیٰ سطحی فوجی کمیشن بناتے اور سول حکام کو بھی شامل کرتے۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کارگل کا مسئلہ حل کرنے کے لئے امریکہ جا کر صدر کلنٹن سے درخواست کی۔
یہ بھی پڑھیں: رحیم یارخان: موٹر وے پر مسافر بس ٹرک سے ٹکرا گئی، 5 مسافر جاں بحق، 26 زخمی
امریکی صدر سے ملاقات
وزیراعظم نے بظاہر صدر کلنٹن سے ملنے کی کوشش کی، مگر اس اچانک اور غیر طے شدہ ملاقات پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ امریکہ سے واپس آ کر، وزیراعظم نے چیف آف دی آرمی سٹاف کو جائنٹ چیفس کمیٹی کے چیئرمین کا اضافی عہدہ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی کے مزید 2 کیسز کا فیصلہ، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی
وزیراعظم اور آرمی چیف کے تعلقات
اس تمام کے بعد یہ ظاہر تھا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کے مابین تعلقات معمول پر آگئے ہیں، مگر حقیقت میں وہ نارمل نہیں تھے۔ وزیراعظم نے اصرار کر کے چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو ایک سرکاری دورہ پر روانہ کیا، اور ان کے جاتے ہی ایک نیا آرمی چیف تلاش کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: 12 سال قبل پسند کی شادی کرنے والی چار بچوں کی ماں کو والدین کے گھر میں قتل کردیا گیا۔
آرمی چیف کی برطرفی
اپنے ہی منتخب کردہ آرمی چیف کو غیر ملکی دورہ کے دوران اچانک بغیر کسی انکوائری اور چارج شیٹ برطرف کرنا، آرمی کے دوسرے اعلیٰ حکام کے لئے حیران کن تھا۔ یہ ایک بے قاعدگی تھی، اور وزیراعظم نواز شریف کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کئی ریاستیں برفانی طوفان کی زد میں، ٹیکساس اور اوکلاہوما میں نظام زندگی مفلوج، ہزاروں پروازیں منسوخ
آئینی اختیارات کا استعمال
وزیراعظم میاں نواز شریف کو اختیار تھا کہ وہ ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیتے اور جنرل پرویز مشرف کو سامنے بٹھا کر الزامات عائد کرتے، مگر باضابطہ اور قانونی طریقہ کار نظر انداز کیا گیا۔ دنیا کا کوئی وزیراعظم اپنے آئینی اختیارات کو اس طرح بے محابا استعمال نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے عوام محنتی اور باصلاحیت ہیں، مگر افسوس کہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ حکومتی عدم توجہی کے باعث بدامنی اور بنیادی حقوق سے محرومی کا شکار ہے،سراج الحق
نتیجہ
اس بے احتیاطی کا نتیجہ میاں نواز شریف کو دہائیوں تک بھگتنا پڑا۔ سات سال وہ جلاوطن رہے اور مزید تین برس وہ اقتدار اور اسمبلی سے دور رہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگلی جانوروں کے گوشت کے استعمال کا اعتراف، بھارتی اداکارہ بڑی مشکل میں پھنس گئی
مقدمہ اعلیٰ عدلیہ میں
جنرل پرویز مشرف اور اُن کے ساتھیوں نے وزیراعظم کو برطرف کرنے کا اقدام کیا تو مقدمہ اعلیٰ عدلیہ کے سامنے پہنچ گیا۔ اُس وقت کے چیف جسٹس نے فُل کورٹ کے ہمراہ کیس کی سماعت کی اور جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں آنے والی تبدیلی کو ایک کامیاب انقلاب تسلیم کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاک بھارت فیوژن فارمولے کا اعلان کردیا
اعلیٰ عدلیہ کا رویہ
اعلیٰ عدلیہ کا یہ رویہ پاکستانی عوام کے لئے نیا نہ تھا۔ سپریم کورٹ کے اس فورم پر مسٹر جسٹس افتخار چودھری بھی شامل تھے جو بعد میں چیف جسٹس ہوئے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








