پرویز مشرف نے وزیراعظم کو برطرف کرنے کا اقدام کیا تو چیف جسٹس نے فُل کورٹ کے ہمراہ کیس کی سماعت کی اور اس تبدیلی کو کامیاب انقلاب تسلیم کر لیا
مصنف کا تعارف
جسٹس (ر) بشیر اے مجاہد
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے سری لنکا میں نئی تاریخ رقم کر دی
قسط: 66
یہ بھی پڑھیں: پنجاب : سی ٹی ڈی کی مختلف شہروں میں کارروائیاں، 34 دہشت گرد گرفتار
کارگل کی جنگ کا پس منظر
کارگل پر ہونے والی جنگ کے بارے میں بھارتی فلم انڈسٹری نے بیسیوں فلمیں بنائی ہیں، اور پاکستان میں بھی ذرائع ابلاغ نے اسے پاکستان کی شکست اور بھاری جانی و مالی نقصان کے طور پر بیان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور برفباری کی پیشگوئی
وزیراعظم کا کردار
وزیراعظم کی حیثیت سے میاں نواز شریف کو چاہئے تھا کہ وہ اس کی انکوائری کے لئے ایک اعلیٰ سطحی فوجی کمیشن بناتے اور سول حکام کو بھی شامل کرتے۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کارگل کا مسئلہ حل کرنے کے لئے امریکہ جا کر صدر کلنٹن سے درخواست کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاك ویلز كار ميلہ فيصل آباد میں: اپنی گاڑی فوراً بیچنے کا سنہری موقع
امریکی صدر سے ملاقات
وزیراعظم نے بظاہر صدر کلنٹن سے ملنے کی کوشش کی، مگر اس اچانک اور غیر طے شدہ ملاقات پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ امریکہ سے واپس آ کر، وزیراعظم نے چیف آف دی آرمی سٹاف کو جائنٹ چیفس کمیٹی کے چیئرمین کا اضافی عہدہ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: رمیز راجہ نے کہا ”تم وہ کھیل کھیل رہے ہو جس کا کوئی مستقبل نہیں، باپ کی طرح تیز باؤلنگ کرو“ میری لاج رہ گئی، کبھی کبھار فون پر بات ہو جاتی ہے۔
وزیراعظم اور آرمی چیف کے تعلقات
اس تمام کے بعد یہ ظاہر تھا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کے مابین تعلقات معمول پر آگئے ہیں، مگر حقیقت میں وہ نارمل نہیں تھے۔ وزیراعظم نے اصرار کر کے چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو ایک سرکاری دورہ پر روانہ کیا، اور ان کے جاتے ہی ایک نیا آرمی چیف تلاش کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی مالی بحران کا شکار، اراکین اسمبلی کو تعاون کیلئے خط لکھ دیا گیا
آرمی چیف کی برطرفی
اپنے ہی منتخب کردہ آرمی چیف کو غیر ملکی دورہ کے دوران اچانک بغیر کسی انکوائری اور چارج شیٹ برطرف کرنا، آرمی کے دوسرے اعلیٰ حکام کے لئے حیران کن تھا۔ یہ ایک بے قاعدگی تھی، اور وزیراعظم نواز شریف کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی بینک پاکستان کو مختلف منصوبوں کیلئے 2 ارب ڈالر سے زائد قرض دے گا
آئینی اختیارات کا استعمال
وزیراعظم میاں نواز شریف کو اختیار تھا کہ وہ ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیتے اور جنرل پرویز مشرف کو سامنے بٹھا کر الزامات عائد کرتے، مگر باضابطہ اور قانونی طریقہ کار نظر انداز کیا گیا۔ دنیا کا کوئی وزیراعظم اپنے آئینی اختیارات کو اس طرح بے محابا استعمال نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترامیم کے ذریعے آئین کی صورت کو تبدیل کرنے کی کوشش: شبلی فراز
نتیجہ
اس بے احتیاطی کا نتیجہ میاں نواز شریف کو دہائیوں تک بھگتنا پڑا۔ سات سال وہ جلاوطن رہے اور مزید تین برس وہ اقتدار اور اسمبلی سے دور رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیرف جنگ، چین نے خاموشی سے ایسا کام کردیا کہ ٹرمپ بھی حیران رہ جائیں
مقدمہ اعلیٰ عدلیہ میں
جنرل پرویز مشرف اور اُن کے ساتھیوں نے وزیراعظم کو برطرف کرنے کا اقدام کیا تو مقدمہ اعلیٰ عدلیہ کے سامنے پہنچ گیا۔ اُس وقت کے چیف جسٹس نے فُل کورٹ کے ہمراہ کیس کی سماعت کی اور جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں آنے والی تبدیلی کو ایک کامیاب انقلاب تسلیم کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے
اعلیٰ عدلیہ کا رویہ
اعلیٰ عدلیہ کا یہ رویہ پاکستانی عوام کے لئے نیا نہ تھا۔ سپریم کورٹ کے اس فورم پر مسٹر جسٹس افتخار چودھری بھی شامل تھے جو بعد میں چیف جسٹس ہوئے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








