نادیہ کھر نے اپنی گرفتاری کا معاملہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے سامنے اٹھادیا

نادیہ کھر کی گرفتاری کی مخالفت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن رکن نادیہ کھر نے اپنی گرفتاری پر سپیکر ملک محمد احمد خان کو مخاطب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم سے جسٹس منصور کا راستہ رُکا ، رانا ثنا اللہ کا اعتراف
احتجاج کے بعد گرفتاری کا حال
صوبائی اسمبلی میں اپنی گرفتاری پر نادیہ کھر نے تقریر کی اور کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج سے واپس آئی تو پولیس میرے گھر پہنچی ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطین اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن: مشاہد سید نے 5 نکاتی منصوبہ پیش کردیا
پولیس کی کارروائی پر سوالات
انہوں نے کہا کہ میری آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تو پولیس سے پوچھا کیا آپ کے پاس سپیکر پنجاب اسمبلی کا خط ہے؟
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا جنوبی وزیرستان میں شہید جوانوں کو خراج عقیدت پیش
سپیکر کا مؤقف
نادیہ کھر نے استفسار کیا کہ اسپیکر صاحب آپ نے کہا تھا کہ میری اجازت کے بغیر کوئی گرفتاری نہیں ہوگی؟
اس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ آپ جو گرفتاری کی بات کر رہی ہیں، میں آپ سے زیادہ اس کی مذمت کرتا ہوں۔ میں کسی کو رولز 77 کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دوں گا، پرامن احتجاج آپ کا آئینی حق ہے۔
قانون کی عملداری کی یقین دہانی
ملک محمد احمد خان نے یہ بھی کہا کہ بے ایمان نہیں ہوں، دوسرے صوبے سے اٹھ کر کوئی امن و امان خراب کرے گا تو ایکشن ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ یقین دلاتا ہوں، پولیس نے پر امن احتجاج کرنے والوں کے خلاف کچھ کیا تو سخت ایکشن لوں گا، آپ کے پر امن احتجاج میں تشدد آیا تو کارروائی کرنا پولیس کا حق ہے۔