جرمنی کے شہر میں ‘موت کا جال’ کہلانے والے انسانی سمگلنگ کے کاروبار کی گہرائی اور وسعت کتنی ہے؟

ہمیں بتایا گیا ہے کہ ’پورے پیکج کی قیمت 15 ہزار یورو ہے۔‘ اس میں ہمیں انگلش چینل نامی خطرناک سمندری راستے کو عبور کرنے کے لیے ایک ڈنکی کشتی، موٹر اور 60 لائف جیکٹس دی جائیں گی۔

Uses in Urdu کے ایک انڈر کور صحافی کو دو چھوٹی کشتیوں کے سمگلروں نے مغربی جرمنی کے شہر ایسن میں اس ’خاص قیمت‘ کی پیشکش کی۔ اس شہر میں بہت سے تارکین وطن رہتے ہیں یا وہاں سے دوسرے ممالک جانے کے لیے گزرتے ہیں۔

Uses in Urdu کی پانچ ماہ کی تحقیقات نے انگلش چینل میں انسانی سمگلنگ کے مہلک کاروبار میں جرمنی سے متعلق معلومات کو بے نقاب کیا ہے۔

جب سے برطانیہ کی نئی حکومت نے ’سمگلرز کے ان گروہوں کو ختم‘ کرنے کا عزم کیا تب سے جرمنی انگلش چینل میں انسانی سمگلنگ میں استعمال ہونے والی کشتیوں اور انجنوں کو ذخیرہ کرنے کا ایک مرکزی مقام بن گیا ہے اور اس کی تصدیق Uses in Urdu نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے کی ہے۔

خفیہ فلم بندی کے دوران، سمگلروں نے یہ انکشاف کیا کہ وہ جرمن پولیس کو چکمہ دیتے ہوئے متعدد خفیہ گوداموں میں کشتیاں ذخیرہ کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یہ سال تارکین وطن کے چینل کراسنگ کے لیے پہلے ہی سب سے مہلک رہا ہے، جبکہ اب تک 28,000 سے زیادہ افراد چھوٹی، خطرناک کشتیوں میں سفر کر چکے ہیں۔

Uses in Urdu کے انڈر کوور رپورٹر جرمنی کے شہر ایسن کے مرکزی سٹیشن کے باہر انتظار کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایک خفیہ کیمرا لگایا ہوا ہے اور خود کو مشرق وسطیٰ کے ایک تارکین وطن کے طور پر ظاہر کیا ہے، جو اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ جانے کے لیے بے چین ہے۔

ان کی حفاظت کے لیے ہم ان کا نام ظاہر نہیں کر رہے اور اس تحریر میں ہم ان کا فرضی نام حمزہ لکھیں گے۔

خفیہ مقام پر موجود ’نئی‘ ڈنکی

خفیہ مقام پر موجود ’نئی‘ ڈنکی

وہ ایک آدمی کے قریب جاتے ہیں۔ یہ وہ شخص ہے جس سے حمزہ کئی مہینوں سے تارکین وطن کمیونٹی کے کسی ذریعے سے نمبر حاصل کرنے کے بعد واٹس ایپ کالز پر رابطے میں تھے۔ لیکن آج ان کی پہلی ملاقات تھی۔

اس شخص کا نام یا کم از کم جو نام اس نے ہمیں بتایا، ابو ساحر ہے۔ جب سے حمزہ نے ان سے رابطہ کیا اس وقت سے انھوں نے اس بات پر گفتکو کی ہے کس طرح ساحر انگلینڈ کے جنوبی ساحل تک جانے کے لیے ڈنکی فراہم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

حمزہ نے انھیں بتایا ہے کہ فرانس کے کیلیس کے علاقے میں سمگلرز کے گروہوں کے برے تجربات نے انھیں، ان کے خاندان اور دوستوں کو اکیلے سمندری راستہ عبور کرنے کا انتظام کرنے کی کوشش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے۔

ساحر نے اس ملاقات سے پہلے ہی ایک ڈنکی کشتی کی ایک ویڈیو بھیجی ہے جو ان کے مطابق ’نئی‘ ہے اور ایسن کے علاقے میں ایک گودام میں رکھی ہوئی ہے۔

انھوں نے مزید ایسی فوٹیج فراہم کیں جس میں اسی طرح کی نظر آنے والی دیگر کشتیوں کے ساتھ ساتھ آؤٹ بورڈ انجنوں کو بھی چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

حمزہ نے کہا ہے کہ وہ اس پیشکش میں موجود اشیا کے معیار کو خود چیک کرنا چاہتے ہیں اور اسی لیے انھوں نے ذاتی طور پر ملاقات کرنے پر اصرار کیا ہے۔

Uses in Urdu کی ایک ٹیم قریب ہی ہے اور حمزہ کی نقل و حرکت کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ اگر کچھ غلط ہو یا انھیں جلدی سے نکالنے کی ضرورت پڑ جائے تو وہ حرکت میں آ جائیں۔

اسی دوران دو آدمی ایسن کے مرکز سے گزر رہے تھے تو ساحر نے کہا کہ کشتی کو دیکھنے کے لیے گودام تک جانا بہت ’خطرناک‘ ہے، حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ 15 منٹ سے بھی کم دوری پر ہے۔

جب حمزہ نے پوچھا کہ کشتیاں جرمنی کے اس حصے میں کیوں رکھی گئی ہیں تو ساحر نے ’حفاظت‘ اور ’لاجسٹکس‘ کے بارے میں بات کی۔

ایسن کیلس کے علاقے سے صرف چار سے پانچ گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ وہاں سے کشتیاں تیزی سے گزارنے کے لیے کافی قریب ہیں، لیکن شمالی فرانس کے زیادہ نگرانی کیے جانے والے ساحلوں کے زیادہ قریب نہیں۔

اگرچہ یہاں پولیس کے چھاپے پڑتے ہیں اور یورپی وارنٹ کے تحت کارروائی بھی ہوتی ہے لیکن تکنیکی طور پر جرمنی میں انسانی سمگلنگ میں سہولت کاری غیر قانونی نہیں ہے، بشرط یہ کہ یہ یورپی یونین سے باہر کسی تیسرے ملک میں کی جا رہی ہو جیسے بریگزیٹ کے بعد برطانیہ۔

برلن میں وزارت داخلہ کا استدلال ہے کہ چونکہ جرمنی اور برطانیہ جغرافیائی ہمسایہ نہیں ہیں، اس لیے ’براہ راست سمگلنگ‘ نہیں ہوتی ہے لیکن برطانیہ کے ہوم آفس کے ایک ذریعے نے Uses in Urdu کو بتایا کہ انھیں جرمنی کے قانونی فریم ورک کے بارے میں ’مایوسی‘ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 9 سال سے لاپتہ ایم کیو ایم لندن کے کارکن کو ہر ممکن تلاش کرنے کا حکم

جب انکل نے کہا ’اپنی آواز بلند دھیمی رکھو!‘

جب انکل نے کہا ’اپنی آواز بلند دھیمی رکھو!‘

ساحر حمزہ کو ایک کیفے میں لے گیا جہاں انھوں نے کافی اور سگریٹ کا آرڈر دیا۔ انھوں نے کیفے میں اپنی کرسیاں سرکائی کیونکہ ان کے قریب ہی عربی زبان بولنے والے تھے اور ساحر نہیں چاہتے تھے کہ کوئی ان کی بات سنے۔

تقریباً 35 منٹ بعد ساحر اچانک اپنی کرسی سے اٹھے اور حمزہ سے کہنے لگے کہ ’آواز نیچی کرو، وہ آ رہا ہے۔'

بیس بال کیپ پہنے ایک اور شخص ان کے قریب آیا۔ ساحر نے اسے 'الخال' کہا جو کہ 'انکل' کے معنی رکھتا ہے۔ عربی زبان میں کسی کو احترام کے ساتھ مخاطب کرنے کے لیے بھی 'الخال' کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

الخال کے ساتھ ایک اور آدمی تھا جو کافی خاموش رہا، بظاہر وہ اس کا باڈی گارڈ تھا۔ الخال نے ان سے مصافحہ کرنے سے پہلے کیفے کی ویٹرس سے جرمن زبان میں کچھ کہا اور پھر ان کی طرف متوجہ ہوا اور عربی میں باتیں شروع کر دیں۔

حمزہ کو کہا گیا کہ وہ اپنا فون حوالے کر دے، جو کہ ایک الگ ٹیبل پر رکھا ہوا تھا۔

باڈی گارڈ حمزہ کے پاس بیٹھا ہے اور اگلے 22 منٹ کا زیادہ تر حصہ اس نے انہیں غور سے دیکھنے میں گزارا۔

سخت جرمن قوانین کی وجہ سے ملاقات کے دوران Uses in Urdu نے صرف ویڈیو ریکارڈنگ کی اور آڈیو نہیں کی، کیونکہ آڈیو ریکارڈنگ ممنوع ہے۔

لہذا اس گفتگو کے متعلق ہماری رپورٹنگ جزوی طور پر ہمارے انڈر کور صحافی کی یادداشت پر مبنی ہے، جو کہ جرمنی میں تحقیقاتی رپورٹنگ کا ایک مسلمہ طریقہ ہے۔

یہ حمزہ اور سمگلروں کے درمیان پیغامات، کال ریکارڈ اور وائس نوٹ کے ذریعے تصدیق ہوتی ہے۔

خال حمزہ سے کہتے ہیں کہ 'اپنی آواز بلند کیے بغیر' بتاؤ کہ وہ کون ہے اور کیا چاہتا ہے۔

حمزہ نے بظاہر پورے اعتماد کے ساتھ اپنی کہانی دہرائی۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ جس کشتی کی خریداری کے متعلق وہ بات کر رہے ہیں، وہ شاید جرمن قوانین کے تحت غیر قانونی نہ ہو۔

لیکن خال اس بات کو مسترد کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ 'یہ آپ کو کس نے بتایا؟ یہ غیر قانونی ہی ہے۔'

یہ بھی پڑھیں: بھارت: بروقت ایمبولینس نہ ملنے پر ہتھ گاڑی پر بچے کی پیدائش

چین میں تیار 'ڈنکی' کشتیاں جو جرمنی لائی جاتی ہیں

چین میں تیار 'ڈنکی' کشتیاں جو جرمنی لائی جاتی ہیں

اگرچہ جرمنی میں کشتیوں کی سمگلنگ کے بارے میں قانونی خامیاں موجود ہیں، تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ وہ ایک وسیع مجرمانہ نیٹ ورک میں شامل ہیں۔

کافی پینے کے دوران خال کے سینے پر دھکا دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایسن کے علاقے میں ان کے تقریباً 10 گودام ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس کے چھاپے کی صورت میں وہ اپنے سامان کو مختلف مقامات پر رکھ دیتے ہیں۔ اور 'کچھ دن پہلے' ایسا ایک چھاپہ بھی مارا گیا تھا۔

اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ کبھی کبھار جب انہیں اطلاع ملتی ہے کہ پولیس آ رہی ہے تو وہ انہیں 'چارہ' دیتے ہیں کہ ان کی سپلائی ضبط کر لی گئی ہے، مگر اتنی نہیں کہ ان کا کاروبار رک جائے۔

سمگلر 'تین، چار گھنٹے' کے درمیان کیلیس تک سامان پہنچانے کی اپنی صلاحیت کے بارے میں بتاتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عقبی راستوں کے بجائے موٹر وے کا استعمال کرنے کی جرات رکھتے ہیں۔

ایسن کا مقام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ صبح یا دوپہر کے اندر کشتیاں فراہم کی جا سکتی ہیں، اور اگر موسم اچھا ہو تو وہاں سے سرحد عبور کرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، اسی لئے ان کی کشتیوں کی طلب بڑھ جاتی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر منظم جرائم کے خلاف گلوبل انیشی ایٹو کی تحقیق کے مطابق کشتیاں عام طور پر وین یا کاروں کے ذریعے جرمنی، بیلجیئم یا نیدرلینڈز سے فرانسیسی ساحل تک پہنچائی جاتی ہیں، جہاں جرمنی 'خاص طور پر ایک اہم ٹرانزٹ پوائنٹ' ہے۔

تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ اس طرح کے زیادہ تر جہاز (کشتیاں) چین میں تیار کیے گئے ہیں اور یورپ میں منتقل ہونے سے قبل کنٹینر کے ذریعے ترکی بھیج دیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک ٹیوزڈے ریٹانو کا کہنا ہے کہ جرمنی کا کردار مختلف وجوہات کی بنا پر بڑھتا جا رہا ہے، جن میں فرانس میں 'سمگلنگ کے خلاف سخت کنٹرول' شامل ہیں، جس نے منظم گروہوں کو طویل فاصلے سے کام کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ٹیوزڈے ریٹانو یہ بھی مانتی ہیں کہ جرمن حکام چینل کراسنگ کے معاملے کی روک تھام میں کم شامل ہیں کیونکہ 'یہ ان کی سرحد پر ایک مسئلہ نہیں ہے۔'

یہ بھی پڑھیں: نانا پاٹیکر اور اُتکرش شرما کی نئی فلم ’ونواس‘ کا پہلا پوسٹر جاری

’اگر آپ پکڑے گئے تو ہم ذمہ دار نہیں‘

’اگر آپ پکڑے گئے تو ہم ذمہ دار نہیں‘

آئیے، واپس کیفے چلتے ہیں جہاں خال حمزہ کے ساتھ بظاہر مطمئن تھے اور پیسوں کی بات کر رہے تھے۔ وہ چاہتے ہیں کہ حمزہ 'پیکیج' کا سودا کریں جو 15 ہزار یورو میں ہے۔

اس پیکیج میں کیلیس کے قریب انہیں ایک انجن، ایندھن، پمپ اور 60 لائف جیکٹس کے ساتھ کشتی فراہم کی جائے گی۔ حمزہ کا کہنا ہے کہ یہ ان کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن یہ ایک خاص پیشکش ہے جو ممکنہ طور پر فرانس سے انگلش چینل عبور کرانے کے لئے کسی سمگلر کو دی جاتی ہے۔

گلوبل انیشی ایٹو کے مطابق اس میں سمگلرز کے لیے ممکنہ طور پر 'غیر معمولی' منافع موجود ہے۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ درجنوں افراد سے سفر کے لیے فی کس تقریباً دو ہزار یورو وصول کیے جاتے ہیں تو اس سے حاصل ہونے والی رقم کا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں۔

اگر ان کا معاہدہ ہو جاتا ہے تو خال کا دعویٰ ہے کہ وہ کل تک کشتی سمیت یہ سامان ایک ایسے مقام پر موجود پائیں گے جو فرانسیسی ساحل سے صرف 200 میٹر کے فاصلے پر ہے۔

خال اور سحر ایک 'نئے کراسنگ پوائنٹ' کا بھی ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جگہ فرانسیسی حکام کی نظروں سے کم ہی بچتی ہے۔ تاہم، وہ اس کا مقام ظاہر نہیں کرتے۔

یہاں ایک دوسرا اور سستا آپشن بھی موجود ہے، اور حمزہ اس کے حق میں زیادہ ہیں۔

اس کے تحت، وہ تقریباً آٹھ ہزار یورو میں کشتی کو جرمنی کے ایسن کے گودام سے حاصل کر کے اسے اپنے زور پر شمالی فرانس تک لے جائیں گے۔

سمگلرز حمزہ سے کہتے ہیں کہ اگر آپ پکڑے گئے تو ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔

جب انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ کیا کرنا ہے، تو اب بات چیت کا رخ اس بات کی طرف بڑھتا ہے کہ حمزہ گینگ کو کیسے ادائیگی کریں گے۔

خال چاہتے ہیں کہ ترکی میں رقم نقد ادا کی جائے کیونکہ 'سب چیزیں' وہاں سے آتی ہیں۔

تو کیا یہ ڈیل طے پائی؟

تو کیا یہ ڈیل طے پائی؟

وہ یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ رقم کو حوالہ سسٹم کے ذریعے جمع کیا جا سکتا ہے۔ حوالہ ایک طریقہ ہے جس کے تحت کسی بھی رسمی بینکنگ کے بجائے سرحدوں کے پار نقد رقم پہنچانے کے لیے ایجنٹوں کے نیٹ ورک پر انحصار کیا جاتا ہے۔

بعد ازاں، حمزہ کو واٹس ایپ پر اکاؤنٹ کا نام بھیجا جاتا ہے۔

کیفے میں ملاقات کے بعد بھیجے گئے پیغامات عربی زبان میں اور وائس نوٹس میں ہوتے ہیں، جن میں سے ایک میں سحر آؤٹ بورڈ موٹرز کے برانڈز کی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں مرکری کمپنی کی موٹر 'بہت پسند' ہے لیکن 'اگر یاماہا مل جائے تو میں یاماہا کو ترجیح دوں گا۔'

وہ اس بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ کس طرح سامان کو 'ڈیلیور اور دفن' کر سکتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے کراسنگ پوائنٹ کے قریب زیر زمین کیسے چھپا سکتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ بولون ایک بہتر آپشن ہے کیونکہ کیلس اس کے مقابلے میں 'قدرے مشکل ہے'۔

خرید و فروخت کی حکمت عملی کے تحت حمزہ سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس 'محدود' سٹاک ہے جبکہ خریدار زیادہ ہیں۔

خال اپنی بات چیت میں زیادہ محتاط ہیں۔ لیکن وہ سحر کی طرف سے بھیجے گئے ایک وائس نوٹ میں حمزہ سے ملاقات کے بعد بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: 'تمہارا دوست، لگتا ہے کہ وہ ٹھیک (آدمی) نہیں ہے۔'

اس کے باوجود، وہ سحر سے کہتے ہیں کہ حمزہ سے پوچھے آیا وہ کشتی خریدنا چاہتا ہے یا نہیں: ’اگلے ایک یا دو گھنٹے میں، اس سے پوچھیں۔‘

بالآخر، حمزہ نے ان سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ اب یہ سودا نہیں کر سکتے۔

اور اس طرح Uses in Urdu نے ان افراد کو کوئی رقم ادا نہیں کی اور نہ ہی ہم ان کی اصل شناخت کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ کہہ سکتے ہیں۔

ہم نے نیشنل انڈیپنڈنٹ لائف بوٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین نیل ڈالٹن کو موصول ہونے والی کشتیوں کی فوٹیج دکھائی تو انھوں نے کہا کہ وہ ایسے جہازوں سے 'بطخ والے تالاب' میں بھی نہیں جائیں گے۔

ان کا موازنہ 'موت کے پھندے' سے کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ درجنوں لوگوں کو ان کشتیوں پر چینل کراسنگ کے لیے باندھنا 'انتہائی خطرناک' ہوگا کیونکہ بظاہر یہ 'انتہائی کمزور' ہیں۔

دریں اثنا، سفارت کاروں کا اصرار ہے کہ ان گروہوں سے نمٹنے کے لیے جرمنی اور برطانیہ کے درمیان تعاون میں بہتری آئی ہے۔

دوسرے ممالک کے تعاون سے اس سلسلے میں گرفتاریوں کا عمل جاری ہے اور گوداموں پر چھاپے مارے گئے ہیں جبکہ 'اسی قسم کے جرم' جیسے کہ تشدد یا منی لانڈرنگ کے خلاف جرمنی کے اندر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

فروری میں جرمنی میں ایک بڑا چھاپہ مارا گیا جس میں کشتیاں، انجن، لائف جیکٹ اور بچوں کے تیرنے کے سامان ضبط کیے گئے اور 19 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

لیکن یہ بیلجیئم اور فرانسیسی عدالتی احکامات کے تحت ہوا۔ سنہ 2022 سے اسی طرح کے آپریشن کے متعلق فرانس میں ایک علیحدہ مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

برطانیہ کے ہوم آفس کے ایک ترجمان نے Uses in Urdu کو بتایا کہ حکومت جرمنی سمیت دیگر ممالک کے ساتھ 'مجرمانہ سمگلنگ کے گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن' کرنے کے لیے ’تیزی سے کام‘ کر رہی ہے، لیکن ’ہمیشہ ساتھ مل کر کرنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے۔‘

فرانسیسی حکام کی طرف سے اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا گیا۔

شمالی فرانس کے ایک پراسیکیوٹر پاسکل مارکون ویل نے رواں ماہ کے اوائل میں Uses in Urdu کو بتایا کہ ’جرمنی والوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ کشتیاں ہمارے ساحلوں پر ہونے والے جرائم سے منسلک ہیں تاکہ وہ مداخلت کر سکیں گے۔‘

برلن کی وزارت داخلہ نے Uses in Urdu کو بتایا کہ دو طرفہ تعاون 'بہت اچھا' ہے اور جرمن حکام برطانیہ کی درخواست پر کارروائی کر سکتے ہیں۔

ایک ترجمان نے مزید کہا کہ اگرچہ جرمنی سے برطانیہ کے لیے سمگلنگ میں مدد کرنا غیر قانونی نہیں ہے لیکن بیلجیم یا فرانس جہاں سے چینل کراسنگ ہوتی ہے وہاں سمگلنگ میں مدد کرنا قابل سزا جرم ہے۔

ڈاؤننگ سٹریٹ نے کہا کہ Uses in Urdu کی تحقیقات 'بالکل اسی قسم کی سرگرمی پر روشنی ڈالتی ہے جس سے نمٹنے کے لیے ہم کام کرنا چاہتے ہیں۔'

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا جرمنی کو ملک میں فلیٹبل کشتیوں کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے مزید کچھ کرنا چاہیے تو کیئر سٹارمر کے سرکاری ترجمان نے کہا: 'یہ ضروری ہے کہ ہم نفاذ کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر وسیع کرتے رہیں، اور یہ کہ یہ دوسرے ممالک تک جاتا ہے۔

'ہمیں ان کی سرگرمیوں کے پیمانے کے ساتھ رفتار برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، اور یہ وہ چیز ہے جس پر ہم جرمنوں اور دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔'

شمال مشرقی فرانس کے ساحلوں کے ساتھ آپ کو کشتیوں پر کراسنگ کی ناکام کوششوں کی باقیات مل سکتی ہیں جو نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق 'زیادہ خطرناک اور ناقابل برداشت' ہوتی جا رہی ہیں۔

ان ساحلوں پر ہوا نکلی ہوئی ڈنگیاں اور لاوارث لائف جیکٹس بیکار لگ سکتی ہیں لیکن کسی نے اس کے لیے بھاری رقم ادا کی ہو گی جن کے بارے میں وہ امید کر رہے تھے کہ وہ ان کے لیے بہتر زندگی کا وسیلہ ہو سکتی ہیں۔

یہ مصائب، مایوسی اور بدترین صورتوں میں موت کی تجارت ہے، لیکن یہ ایک ایسی تجارت ہے جو یورپ کے اندر گہرائی میں کہیں ترقی کر رہی ہے اور پھل پھول رہی ہے۔

اس مضمون کے متعلق ہم نے الخال سے جواب طلب کیا لیکن انھوں نے جواب نہیں دیا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...