پاکستان میں دراندازی افغان پالیسی کا حصہ نہیں ہے، افغان ناظم الامور
افغان ناظم الامور کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) افغان ناظم الامور مولوی سردار احمد شکیب نے کہا ہے کہ غیر ریاستی عناصر پاکستان میں دراندازی کرتے ہیں لیکن یہ افغان حکومت کی پالیسی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک بے نامی سینیٹر نے جو رکیک، گھٹیا اور لچر زبان استعمال کی، وہ اس کے اپنے ذہنی معیار اور ’’غیر سیاسی ‘‘ ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے،پی ٹی آئی
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات
اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مولوی سردار احمد شکیب نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطے کے چینلز موجود ہیں۔ تاہم اس وقت کوئی اعلی سطح پر بات چیت نہیں ہو رہی۔
یہ بھی پڑھیں: چلی کے جنوبی ترین علاقے میں 7.5 شدت کے زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ جاری
امن و امان کی صورتحال
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو شاید کچھ شکایات ہیں۔ مگر ہمیں علم نہیں کہ امن و امان کے حوالے سے پاکستان کو کیسے رضامند کریں۔ مولوی سردار احمد شکیب نے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کے الزامات کی تردید کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی جارحیت کے نتیجے میں زخمی 2 جوان شہید، شہدا کی مجموعی تعداد 13 ہو گئی
افغان سرزمین کا استعمال
انہوں نے کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیتا۔ تاہم کچھ عناصر دراندازی کرتے ہیں لیکن یہ ہماری پالیسی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی دراندازی کوئی نئی چیز نہیں اور اگر ہم اس پر قابو پانا بھی چاہیں تب بھی یہ ناممکن ہوگا۔ کوئی افغان یہاں آکر دہشت گردی نہیں کرتا اور ہم کسی افغان کو کسی ہمسایہ ملک میں جہاد کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ اس حوالے سے باقاعدہ فتوے بھی جاری ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ایک گھر سے کئی روز پرانی 3 لاشیں برآمد
اقتصادی و تجارتی تعلقات
افغان ناظم الامور نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے کام کر رہے ہیں لیکن اقتصادی و تجارتی تعلقات کی راہ میں کچھ چیلنجز اور رکاوٹیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی راہداریوں کے ذریعہ باہمی تجارتی تعلقات جاری ہیں اور سرحدی راہداریوں کی بار بار بندش، گاڑیوں کی غیر ضروری تلاشی اور کسٹمز کے معاملات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
سفارتی مذاکرات کی اہمیت
سفارتی مذاکرات طویل المدت تجارتی تعلقات کے لیے ضروری ہیں۔








