یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کبھی سن لیں گے فرصت میں۔۔۔
کیفِ سرمدی
یہاں ہے ایک کیفِ سرمدی صہبائے الفت میں
سکونِ زندگی ہے مست تر سازِ محبت میں
یہ بھی پڑھیں: تمام اوورسیز پاکستانی ہمارا سرمایہ ہیں،بیرسٹر امجد ملک
اسیرانِ محبت
کشش کیا جانتے تھے وہ اسیرانِ محبت میں
کہ اٹھ آیا بالآخر گلستاں زندانِ وحشت میں
یہ بھی پڑھیں: جمائمہ خان کے ایکس پر فالورز میں کمی
دخترِ رز کی باتیں
کیا کرتا ہے اکثر ذکر کیوں یہ دخترِ رز کا
یہ باتیں آئیں کب سے وعظِ سادہ طبیعت میں
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز نے سیلاب متاثرین کو عارضی قیام کے مناسب مقامات مہیا کرنے کا حکم دیدیا
غیر کو نہ لانے کی درخواست
جو کہتا ہوں نہ لاﺅ غیر کو مجھ تک تو کہتے ہیں
ملا کرتے نہیں ہم یوں کسی سے عین خلوت میں
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کی ماسکو میں صدر پوٹن سے ملاقات
داستانِ دل
انہیں جب بھی سنانا چاہتا ہوں داستانِ دل
یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کبھی سن لیں گے فرصت میں
یہ بھی پڑھیں: گجرات میں ایک بار پھر ایک گھنٹے کی بارش نے پورے شہر کو ڈبو دیا، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
دلِ آشفتۂ وحشی
دلِ آشفتۂ وحشی بڑا نازوں کا پالا تھا
خبر کیا تھی کہ ہوجائے گا یوں برباد الفت میں
یہ بھی پڑھیں: صوابی میں مشہور ٹک ٹاکر لڑکی لڑکا نکل آیا
داورِ محشر کے سامنے
میں پیشِ داورِ محشر جو ان سے خوں بہا چاہوں
کہیں الٹے بگڑ بیٹھیں قیامت ہو قیامت میں
کلام
کلام : وقار حیدری مالیگانوی ( بھارت )








