انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان جھگڑا قیام پاکستان کے آغاز سے چل رہا ہے، ترتیب بدل دی گئی کہ بنیادی جمہوریتوں کے ارکان صدر کو منتخب کریں
مصنف کی تفصیل
جسٹس (ر) بشیر اے مجاہد
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 8 یوم کی توسیع، نوٹیفکیشن جاری
قسط: 70
یہ بھی پڑھیں: بھارت، آندھرا پردیش میں مندر میں بھگدڑ، 9 افراد ہلاک
عدلیہ اور انتظامیہ کی کش مکش
پاکستان میں انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان تنازعہ یا جھگڑا قیام پاکستان کے آغاز سے چل رہا ہے۔ شروع سے ہی جوڈیشری نے پاکستان کی ہمہ جہت ترقی میں بھرپور حصہ لیا۔ مگر عوام الناس میں یہ تاثر بڑا طاقتور رہا ہے کہ عدلیہ کا زیادہ تر جھکاؤ حکومت یا فوجی کمانڈ کی طرف رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فراڈ سے بچنا ہے تو او ٹی پی بچائیں
1954 کی آئینی ترمیم
اکتوبر 1954ء میں آئین ساز اسمبلی نے ایک آئینی ترمیم منظور کی جس کی رو سے اُس وقت کے گورنر جنرل ملک غلام محمد کے اختیارات ختم ہو گئے۔ یہ وہ اختیارات تھے جن کو استعمال کر کے گورنر جنرل ملک غلام محمد نے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو برطرف کر دیا تھا۔ جس پر ملک غلام محمد نے آئین ساز اسمبلی کو ہی برخاست کر دیا۔
اس کے خلاف آئین ساز اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی۔ سندھ ہائی کورٹ نے مولوی تمیز الدین کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے اُن کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ حکومت نے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ یا فیڈرل کورٹ میں اپیل کی جس پر عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا۔ اس وقت فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس محمد منیر تھے، جنہوں نے اجلاس میں باقاعدہ سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور گورنر جنرل کا حکم بحال کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم 4 بنگلہ دیشی باشندوں کی ایران جانے کی کوشش ناکام، ایجنٹس سمیت گرفتار
1958 میں مارشل لاء کا نفاذ
1958ء میں صدر سکندر مرزا اور اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل محمد ایوب خان نے باہمی اتفاق سے 1956ء کا آئین منسوخ کر دیا۔ تمام اسمبلیاں تحلیل کر دی گئیں جب کہ ملک میں عام انتخابات ہونے والے تھے۔
مگر جنرل سکندر مرزا اور فوجی سربراہ ایوب خان کا خیال تھا کہ ملک میں امن و امان کو تباہ کر کے زبردست سیاسی محاذ آرائی پیدا کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے ملک کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ چنانچہ صدر سکندر مرزا نے کمانڈر انچیف ایوب خان کے ساتھ مل کر ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پتوکی میں لڑکی سے زیادتی، ملزم کے ساتھی نے ویڈیو وائرل کردی
عدالت کی مداخلت
یہ ایک کھلم کھلا غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام تھا مگر ملک کی فیڈرل کورٹ (جسے بعد میں سپ Supreme Court قرار دے دیا گیا) کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس محمد منیر نے ایک دفعہ پھر بھرپور کردار ادا کیا۔ مارشل لاء کے خلاف دائر کی جانے والی پٹیشن کے جواب میں نظریہئ ضرورت کو آئین اور قانون سے بالاتر قرار دیتے ہوئے امن عامہ بحال رکھنے کے لئے مارشل لاء کو جائز قرار دے دیا۔
یہ مارشل لاء 1962ء تک جاری رہا، تاوقتیکہ ایوب خان نے اپنی مرضی سے ملک میں صدارتی طرز حکومت اختیار کرنے کے لئے ایک نیا آئین نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: آن لائن اشیاء بیچنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، اب Alibaba کے ذریعے اپنی مصنوعات دنیا میں کہیں بھی باآسانی بھیجیں
بنیادی جمہوریت کا نظام
اس نظام کے تحت پہلے بلدیاتی طرز پر بنیادی جمہوری نمائندے منتخب ہونے تھے۔ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں چالیس چالیس ہزار بنیادی جمہوریتوں کے نمائندے منتخب ہونے تھے اور بعد میں ان ہی 80 ہزار افراد کو انتخابی کالج قرار دے کر انہیں ہی صوبائی اسمبلیاں اور پھر قومی اسمبلی کے ارکان کو منتخب کرنے کا اہل قرار دے دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 2 سالہ بچی کو 10 کروڑ تاوان کیلئے اغوا کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
منتخب صدر کا طریقہ کار
پہلی دفعہ یہ انتخابات ہونے سے قبل صدر مملکت ایوب خان کو محسوس ہوا کہ اسمبلیوں کے انتخابات کے بعد یہ انتخابی کالج آزاد ہوکر صدر کے انتخاب میں اپنی مرضی استعمال کرسکتا ہے۔ اس لئے آئین میں ترمیم کر کے ترتیب بدل دی گئی کہ پہلے بنیادی جمہوریتوں کے ارکان صدر کو منتخب کریں، اور اس کے بعد صدر کے نامزد کردہ ارکان اسمبلی کو منتخب کیا جائے، اور اس پر عمل بھی ہوا۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








