روس نے گوگل پر اتنا جرمانہ کردیا کہ گنتے گنتے ’’کیلکولیٹر‘‘ جواب دے گئے
روسی عدالت کا فیصلہ
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) روس کی ایک عدالت نے ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پر روسی میڈیا اسٹیشن کا مواد روکنے کے جرم میں 20 ڈیسیلین ڈالر (20 کے بعد 33 صفر) کا جرمانہ عائد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی بدمعاشوں نے بھاری رشوت دیکر بھارت کو گھٹیا جہاز بکوا دیے: سابق بھارتی جج کا طنز
جرمانے کی تفصیلات
غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی عدالت کی جانب سے عائد جرمانے کی مالیت اس وقت دنیا کی جی ڈی پی (ایک ہزار کھرب ڈالر) سے بھی اربوں کھربوں ڈالر زیادہ ہے۔ عدالت نے یہ رقم چار سال تک چلنے والے مقدمے کے بعد مقرر کی، جو کہ امریکا کی جانب سے روسی قوم پرست چینل زارگریڈ پر 2020 میں عائد کی گئی پابندیوں کے نتیجے میں شروع ہوا تھا۔ 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے پابندی کا سامنا کرنے والے چینلز کی فہرست میں اضافہ ہوا اور اب 17 سٹیشنز (بشمول پیوٹن کے وزارتِ دفاع کا ٹی وی چینل) گوگل کے خلاف مقدمہ کرنے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: تحریک انصاف کی احتجاجی کال، پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ
عدالتی کارروائی
وکیل آئیون موروزوف نے ریاستی میڈیا تاس کو بتایا کہ روسی عدالت میں گوگل کو یوٹیوب سے چینل ہٹانے کی وجہ سے آرٹیکل 13.41 کے تحت بلایا گیا تھا۔ عدالت نے کمپنی کو ان چینلز کو بحال کرنے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف 70ہزار حرام کے ووٹ لے کر قوم پر مسلط ہوئے، ان کو لانے والوں کا چالان کون کرے گا، حافظ نعیم الرحمان
جرمانہ کی مقدار
عدالت نے پلیٹ فارم پر 1025 ڈالر یومیہ جرمانہ عائد کیا، جو کہ ہر ہفتے دُگنا ہوتا جائے گا۔ اس کے بعد گوگل کو ایک انتہائی غیر معمولی رقم کی ادائیگی کا سامنا ہوگا۔
روس میں کمپنی کی صورتحال
واضح رہے روس میں گوگل 2022 سے غیر فعال ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ روسی حکام نے اس کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں اور روس میں اس کی شاخوں کا دوالیہ نکل چکا ہے۔ کمپنی کا روس میں 200 سے زیادہ کا سٹاف تھا، جن میں کچھ کو دوسری جگہ منتقل کردیا گیا جبکہ کچھ کو نوکری سے نکال دیا گیا۔








