مردانگی کا بحران اور سماجی اثرات: بے اولادی کی وجوہات کیا ہیں؟

دنیا بھر میں تمام تر اندازوں سے بھی زیادہ تیزی سے شرح پیدائش میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ چین میں شرح پیدائش میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے جبکہ لاطینی امریکہ سے بھی ایسے ہی حیران کن اعدادوشمار سامنے آئے ہیں۔ ایک کے بعد ایک ملک میں سرکاری طور پر شرح پیدائش سے متعلق تخمینے اور اندازے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بھی شرح پیدائش توقع سے کہیں زیادہ ڈرامائی طور پر گر رہی ہے۔ شرح پیدائش میں کمی کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں بچے پیدا کرنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں بے اولادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کولمبیا کی ایزابیل کا رشتہ ختم ہوا تو انھوں نے 'نیور مدرز' کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جس کے بعد انھیں احساس ہوا کہ وہ ماں بننا ہی نہیں چاہتی تھیں۔

لیکن انھیں ہر روز اس انتخاب کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'سب سے زیادہ جو میں سنتی ہوں وہ یہ ہے کہ آپ کو اس پر پچھتاوا ہوگا، آپ خود غرض ہیں۔ جب آپ بوڑھی ہو جائیں گی تو آپ کی دیکھ بھال کون کرے گا؟'

ایزابیل اپنی مرضی سے بے اولاد ہیں، تاہم کئی لوگوں کے لیے یہ بانجھ پن کا نتیجہ ہے کہ وہ بچے پیدا کرنا چاہتے ہیں مگر اس خواہش کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ اس کے لیے ماہرین 'سماجی بانجھ پن' کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض کم آمدنی والے مرد حضرات چاہتے ہوئے بھی بے اولاد رہتے ہیں۔ ناروے میں سنہ 2021 کے ایک تحقیق میں پایا گیا کہ کم آمدنی والے مردوں میں بے اولادی کی شرح 72 فیصد تھی، جبکہ دوسری جانب زیادہ آمدنی والے مردوں میں یہ شرح صرف 11 فیصد تھی۔

جب رابن ہیڈلی 30 کی دہائی میں تھے، تو وہ باپ بننے کے لیے بے چین تھے۔ انھوں نے یونیورسٹی میں تعلیم تو حاصل نہیں کی، لیکن شمالی انگلینڈ کی ایک یونیورسٹی میں فوٹوگرافر کی نوکری کی ہے۔

20 سال کی عمر میں اُن کی شادی ہو چکی تھی، جس کے بعد انھوں نے اور اُن کی اہلیہ نے کوشش کی کہ ان کے ہاں بچے کی پیدائش ہو، مگر اس سے پہلے کہ یہ کوشش کامیاب ہوتی، ان کی علیحدگی ہو گئی۔

رابن پر بینک کے قرضوں کا بوجھ تھا جس سے وہ اپنی جان چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے اور ایسے میں وہ مالی طور پر اتنے مضبوط نہیں تھے کہ اپنے دوستوں کے ساتھ باہر نکلیں یا نیا تعلق قائم کر سکیں۔ مالی مشکلات کی وجہ سے وہ اپنے دوستوں سے بھی دور ہو گئے، جو والدین بن رہے تھے۔ اس دوران رابن احساسِ کمتری کا شکار ہو گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'بچوں کے لیے سالگرہ کے کارڈ یا نئے بچوں کی چیزیں خریدنا، یہ سب آپ کو اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ آپ کی زندگی میں کسی چیز کی کمی ہے اور آپ سے کیا توقع کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ایک نہ ختم ہونے والی تکلیف اور درد بھی جڑا ہوا ہے۔'

اُن کے اپنے تجربے نے انھیں مردانہ بانجھ پن کے بارے میں ایک کتاب لکھنے کی ترغیب دی۔ انھیں احساس ہوا کہ وہ 'ان تمام چیزوں سے متاثر ہوئے ہیں اور اس سب کے پیچھے معاشی حالات، وقت کی کمی اور رشتوں کی صحیح شناخت جیسے عوامل کارفرما تھے۔'

انھوں نے محسوس کیا کہ بڑھتی عمر اور افزائش نسل سے متعلق جتنی بھی تحقیق کی، اس میں بے اولاد مردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی اور وہ حکومتی اعدادوشمار سے کُلی طور پر غائب تھے۔ یوں کہہ لیجیے کہ حکومتی کاغذوں میں ان کا کہیں کوئی نام و نشان تک نہیں تھا۔

’سماجی بانجھ پن‘

’سماجی بانجھ پن‘

سماجی بانجھ پن کی متعدد وجوہات ہیں جن میں مالی وسائل کی کمی یا صحیح وقت پر صحیح پارٹنر سے ملنے میں ناکامی شامل ہیں۔ فن لینڈ کے پاپولیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی سماجی ماہر اور ڈیموگرافر اینا روٹکرچ نے یورپ اور فن لینڈ میں گزشتہ 20 سال سے اس موضوع پر معلومات کا جائزہ لیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس کی بنیادی وجہ کچھ اور ہے۔‘

ایشیا کے باہر، فن لینڈ ان ممالک میں شامل ہے جہاں بے اولادی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ لیکن 1990 اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں، یہ دنیا بھر میں افزائشِ نسل کے لیے دوستانہ پالیسیوں کے ذریعے بے اولادی کے مسئلے سے نمٹنے کی خصوصی کوششوں کا مرکز رہا ہے۔

والدین بننے پر ملنے والی چھٹی، بچوں کی دیکھ بھال کے لیے سازگار ماحول اور گھر چلانے میں مرد و خواتین کا مساوی کردار ادا کرنا اہم ہے۔

تاہم، ایسے سازگار ماحول کے باوجود، 2010 کے بعد سے ملک میں شرح پیدائش میں تقریباً ایک تہائی کمی آئی ہے۔

پروفیسر روٹکرچ کا کہنا ہے کہ ’شادی کی طرح بچے پیدا کرنے کو بھی ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا تھا، جیسے کہ بالغ ہونے کے بعد نئی زندگی کا آغاز کرنا۔ لیکن اب حالات اس کے برعکس ہوتے جا رہے ہیں، یعنی کہ اب شادی اور بچے پیدا کرنا اتنا اہم نہیں رہ گیا۔ ہاں، جب لوگوں کی زندگی کے باقی تمام امور مکمل ہو جائیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ یہ بھی ایک کام تھا جس پر توجہ دینا تھی۔‘

پروفیسر روٹکرچ بتاتی ہیں کہ ’تمام مختلف طبقوں کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بچہ پیدا کرنا ان کی زندگی میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر رہا ہے۔‘

فن لینڈ میں، انھوں نے یہ دیکھا ہے کہ امیر ترین خواتین غیر ارادی طور پر بے اولادی کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں، جبکہ دوسری طرف کم آمدنی والے مردوں میں بے اولادی کی شرح زیادہ ہے۔

یہ ایک حیران کن تبدیلی ہے، کیوں کہ پہلے غریب گھرانوں میں بلوغت کا تصور بہت تیز رفتار ہوا کرتا تھا اور یہاں تک کہ تعلیم چھوڑ کر جلدی شادی اور خاندان کی بنیاد رکھنے کو ترجیح دی جاتی تھی۔

مردوں کی مالی مشکلات اور دیگر مسائل انہیں بے اولادی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ سماجی ماہرین اس صورتحال کو ’سلیکشن ایفیکٹ‘ کہتے ہیں، جہاں خواتین جب شریک حیات کا انتخاب کرتی ہیں تو اسی سماجی طبقے یا اس سے اوپر کے کسی شخص کا چناؤ کرتی ہیں۔

رابن ہیڈلی کی بیوی نے انھیں یونیورسٹی جانے اور پی ایچ ڈی کرنے میں مدد کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر وہ نہ ہوتی تو میں اس مقام پر نہ ہوتا جہاں میں ہوں۔‘ لیکن اب جب انھوں نے بچے پیدا کرنے کے بارے میں سوچا تو وہ 40 کی دہائی میں تھے اور بہت دیر ہو چکی تھی۔

دنیا بھر کے 70 فیصد ممالک میں خواتین تعلیم کے میدان میں مردوں سے آگے نکل رہی ہیں، جس کی وجہ سے سماجی ماہر مارشیا انھورن نے اس کو ’دی میٹنگ گیپ‘ یعنی ’ملاپ کا فرق‘ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی کی قیمت میں کمی کردی گئی

تولیدی صحت اور اعدادوشمار کی کمی

زیادہ تر ممالک میں مردوں کی تولیدی صحت کے بارے میں اعداد و شمار نہیں ہیں کیونکہ پیدائش کا اندراج کرتے وقت صرف ماں کی تولیدی صحت کی تاریخ شمار کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بے اولاد مردوں کا شمار نہیں کیا جاتا۔

تاہم، کچھ نارڈک ممالک دونوں کو قبول کرتے ہیں۔ ناروے میں ہونے والی ایک تحقیق میں امیر اور غریب مردوں کے درمیان بچے پیدا کرنے میں بڑے پیمانے پر فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بے شمار مرد پیچھے رہ گئے ہیں۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں مردوں کی صحت اور تولیدی صحت کا مطالعہ کرنے والے ونسینٹ سٹروب کہتے ہیں کہ ’شرح پیدائش میں کمی میں مردوں کے کردار کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔‘

وہ شرح پیدائش میں کمی کے معاملے میں مردانہ مسئلے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نوجوان مردوں میں الجھاؤ سے جڑا ہے جس کی وجہ معاشرے میں خواتین کا با اختیار ہونا اور مردانگی سے جڑی سماجی توقعات کا تبدیل ہونا ہے۔

اس معاملے کو ’مردانگی کے بحران‘ کا نام بھی دیا گیا ہے اور انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اینڈریو ٹیٹ جیسے افراد، جو حقوق نسواں کے مخالف ہیں، کی شہرت اس کا مظہر ہے۔

سٹروب کا کہنا ہے کہ کم تعلیم یافتہ مرد ماضی کے مقابلے میں بہت بری صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تکنیکی ترقی نے ہاتھ سے کام کرنے والوں کے لیے موجود مواقع محدود کر دیے ہیں جس سے یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے والوں اور ان افراد میں موجود فرق بڑھ گیا ہے جو اعلی تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔

اس سے ’ملاپ کا فرق‘ یعنی ’میٹنگ گیپ‘ بھی وسیع ہوا ہے اور اس کا مردوں کی صحت پر نمایاں اثر پڑتا ہے۔

’منشیات کا استعمال عالمی سطح پر بڑھ رہا ہے اور بالغ مردوں میں اس کا استعمال سب سے زیادہ ہے، چاہے وہ افریقہ میں ہو، یا جنوبی اور وسطی امریکہ میں۔‘

سٹروب کہتے ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ تولیدی صحت اور اس قسم کی سماجی اور ثقافتی تبدیلیوں کے درمیان کوئی تعلق ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔‘

اور یہ مردوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بنیادی اثر ڈال سکتا ہے۔ سٹروب کا کہنا ہے کہ ’اکیلے رہنے والے مردوں کی صحت عام طور پر اپنے پارٹنر کے ساتھ رہنے والے مردوں کے مقابلے میں بدتر ہوتی ہے۔‘

حل کیا ہے؟

سٹروب اور ہیڈلی کا کہنا ہے کہ تولیدی صحت کے بارے میں گفتگو تقریباً مکمل طور پر خواتین پر مرکوز ہے۔ اور ایسے میں شرح پیدائش سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی کوئی بھی پالیسی نامکمل ہو گی۔

سٹروب کا ماننا ہے کہ تولیدی صحت کے ساتھ ساتھ مردانہ صحت پر بھی توجہ دینا ہو گی اور باپ بننے والے مردوں کا خیال رکھنے کے فوائد پر بات چیت کرنا ہو گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یورپی یونین میں 100 میں سے صرف ایک مرد اپنا کیریئر چھوڑ کر بچے کا خیال رکھتا ہے جبکہ خواتین میں یہ تناسب ہر تین میں سے ایک کا ہوتا ہے۔‘

ایسے شواہد موجود ہیں کہ بچے کی دیکھ بھال مردانہ صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے۔

ادھر ایزابیل اپنی تنظیم کے ذریعے ایک بین الاقوامی بینک کے نمائندوں سے ملیں تو انھیں بتایا گیا کہ باپ بننے والوں کو چھ ہفتوں کی چھٹی کی پیشکش کی گئی لیکن کسی نے بھی یہ پیشکش قبول نہیں کی۔

ایزابیل کا کہنا ہے کہ ’مردوں کو لگتا ہے کہ بچے سنبھالنا عورتوں کا کام ہے۔‘

دوسری جانب رابن ہیڈلی کے مطابق بہتر اعداد و شمار کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ’جب تک مردانہ تولیدی صحت کا ریکارڈ نہیں ہو گا، اسے سمجھنا مشکل ہو گا اور یہ بھی اس کے جسمانی اور ذہنی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘

دوسری جانب بے اولادی کے مسئلے پر بات چیت سے بھی مرد غائب ہیں۔ خواتین کو اپنی صحت کا کیسے خیال رکھنا چاہیے، اس پر تو بہت بات ہوتی ہے اور آگاہی بھی موجود ہے لیکن مردوں میں یہ بات نہیں ہوتی۔

رابن کا کہنا ہے کہ مردوں میں ایک حیاتیاتی گھڑی بھی ہوتی ہے اور تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ 35 سال کی عمر کے بعد مردوں میں سپرم کی افادیت کم ہو جاتی ہے۔

ایسے میں یہ ضروری ہے کہ والدین کی سماجی تعریف کو بھی وسعت دی جائے۔ محققین اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بے اولاد لوگ بھی بچوں کی پرورش میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اینا روٹکرچ کے مطابق اسے ’ایلو پیرنٹنگ‘ کہتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انسانی تاریخ میں ایک بچے کا خیال رکھنے والے ایک درجن سے زیادہ لوگ ہوا کرتے تھے۔

ڈاکٹر ہیڈلی نے جب اپنی تحقیق کے دوران ایک بے اولاد مرد سے بات کی تو اس نے ایک ایسے خاندان کے بارے میں بتایا جن سے وہ مقامی فٹبال کلب میں ملتا تھا۔ ایک سکول پراجیکٹ کے لیے خاندان کے دو بچوں کو دادا دادی کی ضرورت تھی لیکن ان کے دادا اور دادی نہیں تھے۔

اس شخص نے ان بچوں کے دادا کا روپ دھار لیا اور پھر کئی سال تک وہ بچے جب بھی کلب میں ان کو دیکھتے تو کہتے ’ہائی دادا‘۔ ان کے مطابق بچوں کا یہ عمل ان کو بہت اچھا محسوس ہوتا تھا۔

پروفیسر روٹکرچ کا کہنا ہے کہ 'میرے خیال میں زیادہ تر بے اولاد لوگ اس طرح بچوں کا خیال رکھتے ہیں لیکن یہ نظر نہیں آتا۔ پیدائش کے رجسٹر میں تو نہیں ہے لیکن یہ بہت اہم ہوتا ہے۔'

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...