سینیٹ قائمہ کمیٹی: سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی منظور کردہ تعداد
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: کریم خان: بنیامن نتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست کرنے والے پراسیکیوٹر کے خلاف جنسی ہراسانی کی تحقیقات شروع
اجلاس کی تفصیلات
چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف اجلاس میں اکثریتی رائے سے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت عمران خان کی رہائی پر تیار تھی، کچھ لوگوں نے معاملات خراب کردیئے، لطیف کھوسہ کا دعویٰ
مخالفت کی آوازیں
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کی مخالفت کی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: ڈی چوک میں پولیس کی شیلنگ – تازہ ترین صورتحال دریافت کریں
ججز کی تعداد میں تبدیلی
چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے کہا کہ 25 ججز میں ایک چیف جسٹس اور 24 ججز شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی نے کہا آخری پتہ باقی ہے، ابھی استعمال نہیں کروں گا: علیمہ خان
قانون سازی پر اختلافات
پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر حامد خان نے کہا کہ ہمیں اس طرح قانون سازی پر اختلاف ہے، ججز تعیناتی کا ایسا طریقہ کار عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔
سینیٹر حامد خان نے مزید کہا کہ 26ویں ترمیم سے ہم نے عدلیہ کو بہت سخت نقصان پہنچایا ہے، جب کسی ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو ججز کی تعداد بڑھائی جاتی ہے کیوں کہ مرضی کے فیصلے نہیں آرہے ہوتے، آپ بتائیں آپ کی حکومت کیا کرنا چاہ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کا شنگھائی ایکسپیریمنٹل سکول کا دورہ، مختلف شعبوں کا مشاہدہ
جے یو آئی کی رائے
جے یو آئی سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ تعداد بڑھا کر اپنی مرضی کے ججز کو سپریم کورٹ لایا جا رہا ہے، 25 اکتوبر کے بعد اب ججز بہترین انداز سے کام کر رہے ہیں، تعداد بڑھانے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے کبھی خان کی 20 دن میں رہائی کا وعدہ نہیں کیا: بیرسٹر گوہر نے علیمہ کا دعویٰ مسترد کردیا
دیگر سینیٹرز کی تجاویز
سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ ججز کی کم از کم تعداد 21 لازمی کرنی چاہیے۔
محکمہ قانون کا موقف
چیئرمین کمیٹی نے سیکریٹری قانون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اخبار بتا سکتا ہے کہ مقدمات کی تعداد 60 ہزار ہے تو آپ کیوں نہیں بتا سکتے، آپ کو انفارمیشن کے لیے کتنا وقت چاہیے۔
سیکریٹری قانون نے کہا کہ ہمیں کم سے کم بھی تین ہفتے کا وقت دے دیں۔