سینیٹ قائمہ کمیٹی: سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی منظور کردہ تعداد

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: بارشوں اور سیلاب سے 2 ماہ کے دوران 831 افراد جاں بحق، خیبرپختونخوا میں 480، پنجاب میں 191 ہلاکتیں

اجلاس کی تفصیلات

چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف اجلاس میں اکثریتی رائے سے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: اخوت کی نئی مثال، جماعت اسلامی کے اجتماعِ عام میں 25 اسلامی ممالک کی خواتین رہنماؤں کی شرکت

مخالفت کی آوازیں

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کی مخالفت کی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں طبی عملے کی چھٹیوں سے متعلق نئی پالیسی متعارف کروا دی گئی

ججز کی تعداد میں تبدیلی

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے کہا کہ 25 ججز میں ایک چیف جسٹس اور 24 ججز شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیچنگ اسسٹنٹ نے نوعمر لڑکے کو اپنی ایسی شرمناک تصویر بھیج دی کہ ہنگامہ برپا ہوگیا

قانون سازی پر اختلافات

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر حامد خان نے کہا کہ ہمیں اس طرح قانون سازی پر اختلاف ہے، ججز تعیناتی کا ایسا طریقہ کار عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔

سینیٹر حامد خان نے مزید کہا کہ 26ویں ترمیم سے ہم نے عدلیہ کو بہت سخت نقصان پہنچایا ہے، جب کسی ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو ججز کی تعداد بڑھائی جاتی ہے کیوں کہ مرضی کے فیصلے نہیں آرہے ہوتے، آپ بتائیں آپ کی حکومت کیا کرنا چاہ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ سے ’’مذاکرات کی درخواست‘‘ پر ایران کا رد عمل آ گیا

جے یو آئی کی رائے

جے یو آئی سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ تعداد بڑھا کر اپنی مرضی کے ججز کو سپریم کورٹ لایا جا رہا ہے، 25 اکتوبر کے بعد اب ججز بہترین انداز سے کام کر رہے ہیں، تعداد بڑھانے کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کاروباری ہفتے کے پہلے روز ڈالر سستا ہو گیا

دیگر سینیٹرز کی تجاویز

سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ ججز کی کم از کم تعداد 21 لازمی کرنی چاہیے۔

محکمہ قانون کا موقف

چیئرمین کمیٹی نے سیکریٹری قانون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اخبار بتا سکتا ہے کہ مقدمات کی تعداد 60 ہزار ہے تو آپ کیوں نہیں بتا سکتے، آپ کو انفارمیشن کے لیے کتنا وقت چاہیے۔

سیکریٹری قانون نے کہا کہ ہمیں کم سے کم بھی تین ہفتے کا وقت دے دیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...