ساری مصیبتوں کی جڑ محسن نقوی ہیں،اٹک جیل سے رہا پی ٹی آئی ایم پی اے ملک لیاقت خان کا الزام
ملک لیاقت خان کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں خطاب
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں ملک لیاقت خان نے اٹک جیل سے رہائی کے بعد کے پی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن دونوں اراکین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میری رہائی کے لیے آواز اٹھانے پر سب کا شکر گزار ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: مستونگ؛ نامعلوم کی گاڑی پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق
محسن نقوی پر الزام
انہوں نے مزید کہا کہ ساری مصیبتوں کی جڑ محسن نقوی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے اسرائیل پر تازہ میزائل حملے میں 30 سے زائد افراد زخمی
گرفتاری کی تفصیلات
ملک لیاقت نے کہا کہ "ہمارے سامنے سارا اسکرپٹ ڈرامہ کا لکھا گیا تھا۔" انہوں نے اپنی گرفتاری کے وقت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ "مجھے ایک سابق وزیر کہا گیا، جس پر میں نے سوال کیا کہ ایکس منسٹر کیوں کہا گیا، تو جواب آیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگ چکا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: ڈسکہ میں زہرہ قدیر کا قتل: ‘بیٹی کے سسرال میں دھلے ہوئے فرش کو دیکھ کر میری چھٹی حس نے بتایا کچھ برا ہو چکا ہے’
تھانے میں غیر قانونی حراست
انہوں نے کہا کہ "جو رویہ ہمارے ساتھ اپنایا گیا، وہ بیان نہیں کرسکتا۔" ملک لیاقت نے مزید کہا کہ "ہمیں 12 دن تھانے میں غیر قانونی رکھا گیا، اور پھر ان لوگوں نے مجھے اور سرکاری ملازمین کو ضمانت ملنے کے بعد دوبارہ گرفتار کر لیا۔"
یہ بھی پڑھیں: کل وزیراعظم کی جانب سے دعوت ملی ہے، صوبے کے مسائل کا مقدمہ رکھوں گا، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
پنجاب اور خیبرپختونخوا پولیس کا تذکرہ
انہوں نے پنجاب پولیس اور خیبرپختونخوا پولیس کے بارے میں کہا کہ "آج پنجاب پولیس نے جو کے پی پولیس کے ساتھ کیا، کل اسلام آباد پولیس یہاں کیسے آئے گی؟" ملک لیاقت نے سیاسی کارکنان کے ساتھ پولیس جوانوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کا ذکر کیا اور کہا کہ "عدالت میں جب ہم بیٹھے تھے تو ہمارے سامنے فون کیا گیا کہ راستہ تبدیل کرنا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: کیا یقینی بنایا گیا ہے کہ تفتیش کوئی غلطی ملزم کو فائدہ نہ دے، سینیٹر ہمایوں مہمند کا ثنا یوسف قتل کیس میں بریفنگ پر استفسار
گاڑیوں سے زبردستی فرار
ملک لیاقت نے مزید کہا کہ "گاڑیوں سے زبردستی فرار کا جو ڈرامہ رچایا گیا، وہ بیان نہیں کرسکتا۔ حلفاً اکہتا ہوں "ہمیں گاڑی سے زبردستی اتارا گیا، اور یہ ان لوگوں کا ڈرامہ تھا۔"
سپریم کورٹ سے اپیل
ملک لیاقت خان نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ اس واقعہ کا نوٹس لے کیونکہ "سی سی ٹی وی میں سب کچھ محفوظ ہے۔"








