فیض حمید کا ٹرائل کب تک مکمل ہوگا؟ سینئر صحافی نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا
فیض حمید کا ٹرائل
اسلام آباد (ویب ڈیسک) معروف صحافی اور کالم نگار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا ٹرائل مارچ 2025 تک مکمل ہوجائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت پنجاب میں زرعی ترقی کیلئے اعلیٰ سطح کا اجلاس، چین کے ساتھ باہمی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق
ٹرائل کی تفصیلات
آج نیوز کے پروگرام روبرو میں میزبان شوکت پراچہ سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید چودھری نے کہا کہ عام طور پر ایسے ٹرائل میں 6 سے 7 ماہ لگتے ہیں۔ ہر چیز تیار ہے۔ سابق اسپائی ماسٹر اور گواہوں سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔ اس گفتگو میں 26 ویں آئینی ترمیم، قوانین میں مزید تبدیلیوں اور سابق وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف ٹرائل پر بھی کھل کر بات کی۔
یہ بھی پڑھیں: مخالفین کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ، بہتر ہے صلح صفائی ہو ، فی الحال اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں اگر ہوا تو چھپائیں گے نہیں، بیرسٹر گوہر
گرفتاری اور شکایات
یادرہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی پر 12 اگست 2024 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ اقدام ایک پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کی طرف سے غلط طرزِ عمل کی شکایت پر کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں لاپتا افراد کے کیسز کی تعداد کتنی ہو گئی؟
کورٹ آف انکوائری
جاوید چودھری نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے مطابق پاک فوج نے ایک کورٹ آف انکوائری کا اہتمام کیا تاکہ ٹاپ سٹی کیس سے متعلق شکایات کے حوالے سے معاملات درست کیے جاسکیں۔ اس کے نتیجے میں فیض حمید کے خلاف، آرمی ایکٹ کے تحت، نظم و ضبط کی کارروائی کی گئی ہے۔ یہ بات آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز میں بتائی گئی ہے۔ فیض حمید کے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی ایکٹ کی دیگر خلاف ورزیوں کے بھی شواہد ملے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سینٹرل ایشیا والی بال چیمپئن شپ سے فرار ہو گیا
فوجی تفتیش کے طریقہ کار
جاوید چودھری کے مطابق جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں آرمی سسٹم مغربی تفتیشی اداروں کی طرز کا ہے۔ سب سے پہلے شواہد جمع کیے جاتے ہیں، پھر گواہوں اور مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ ہوتی ہے جسے انٹرویو بھی کہا جاتا ہے اور مشتبہ فرد یا افراد کے سامنے شواہد رکھے جاتے ہیں۔ جاوید چودھری نے کہا کہ مرکزی خفیہ ادارے کے سابق سربراہ نے تمام الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے کیس لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 14 اگست کو یہ مجھے گرفتار بھی کرتے ہیں تو کرلیں، میں ضمانت نہیں کرواؤں گی، علیمہ خان
وزیر دفاع کا بیان
جب جاوید چودھری کو بتایا گیا کہ وزیرِدفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فیض حمید کا کیس تو ابھی شروع بھی نہیں ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے وزیرِدفاع ہونے کے ناطے اُن کے پاس بہتر معلومات ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت میں ہونے والے AVC والی بال نیشنز کپ کے لیے کوالیفائی کر لیا
سینیٹر فیصل واؤڈا کے دعوے
سینیٹر فیصل واؤڈا کے دعووں کے بارے میں پوچھے جانے پر جاوید چودھری نے کہا کہ فوج میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ سابق وزیرِاعظم عمران خان سابق آئی ایس آئی چیف پر اثر انداز ہوئے۔ جاوید چودھری نے دعویٰ کیا کہ بہت سوں کا خیال یہ تھا کہ سابق وزیرِ اعظم نے فیض حمید کو تبدیل کیا۔ ہر لیفٹیننٹ جنرل کے دل میں آرمی چیف بننے کی تمنا ہوتی ہے۔ جب ایک وزیرِاعظم کہے کہ مجھے آپ میں ایک آرمی چیف دکھائی دیتا ہے تو اثر تو پڑنا ہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چاول کی قیمتیں بھی بڑھنے لگیں
عدم اعتماد کی تحریک سے قبل کی پیشکش
بانی پی ٹی آئی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے قبل کے واقعات کے بارے میں پوچھے جانے پر جاوید چودھری نے کہا کہ سابق وزیرِدفاع پرویز خٹک کے ذریعے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو تاحیات توسیع کی پیش کش کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مارچ 2022 میں بانی پی ٹی آئی نے ڈی جی آئی ایس آئی کے دفتر سے فون کرکے یہ پیش کش کی تھی۔ تب ایسا کہنے میں کوئی قباحت نہ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں ایم ٹیگ کے بغیر گاڑیوں کے داخلے پر پابندی کی ڈیڈ لائن میں توسیع
نواز شریف کی توسیع کی مخالفت
جاوید چودھری نے یہ بھی بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے جب یہ کال کی تب آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) ندیم احمد انجم بھی کمرے میں موجود تھے۔ اس سٹوری کے اور بھی بہت سے ورژن ہیں۔ مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی اور دیگر رہنماؤں کی خواہش اور کوشش کے باوجود جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے مخالفت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: حارث رؤف میجر لیگ میں ٹاپ بولر بن گئے
ترمیم اور ڈیل کی حکمت عملی
جاوید چودھری نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے 27 ویں ترمیم کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت گاجر اور چھڑی والی حکمتِ عملی اپناکر اپنائی، ایک طرف ترغیب تھی اور دوسری طرف تادیب، گاجر تھی پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات اور چھڑی یہ تھی کہ جے یو آئی ایف کے قانون سازوں سے مولانا فضل الرحمٰن ہی تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب آئینی ترمیم پر ڈیل ہوگئی تب مولانا فضل الرحمٰن کو پارلیمانی کمیٹی کا سربراہ بنادیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر گوہر نے حکومت کو سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اہم تجویز دیدی
آئینی ترامیم کا خاکہ
جاوید چودھری نے بتایا کہ آئینی ترامیم کے مسودے سے فضل الرحمٰن نے چار چیزیں نکلوائیں۔ اول یہ کہ جن لوگوں نے ریاستی اور عسکری تنصیبات پر حملے کیے اُن کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔
یہ معاملہ 9 مئی کے واقعات کا تھا۔ دوم ہائی کورٹ کے ججوں کی روٹیشن۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایسا نہ ہوا ہوتا تو بشرٰی بی بی کے ساتھ ساتھ عمران خان کی بہنوں کی بھی ضمانت منظور ہوئی ہوتیں۔ سوم یہ کہ اگر سپریم کورٹ کا کوئی سینیر جج چیف جسٹس بنادیا جائے تو دیگر سینیر جج مستعفی نہیں ہوں گے۔ چہارم یہ کہ آئینی عدالت نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے سے 6 افراد جاں بحق، 20 سے زائد زخمی، پلازے کا ایک حصہ گر گیا
سابق وزیرِاعظم کی جیل سے رہائی
بانی پی ٹی آئی نے پیش کش ٹھکرادی۔ جاوید چودھری نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیرِاعظم صرف ڈیل ہی کے ذریعے جیل سے باہر آسکیں گے۔
سازشی نظریات
سازشی نظریوں کا حوالہ دیتے ہوئے جاوید چودھری نے سوال اٹھایا کہ کس طور بشرٰی بی بی کی ضمانت منظور ہوئی اور وہ کسی نئے مقدمے کا گرفتاری کے بغیر خیبر پختونخواہ پہنچ گئے، سنی اتحاد کونسل کے 20 ایم این ایز حکومت کی طرف تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر 27 ویں ترمیم فوجی عدالتوں سے متعلق قانون میں ترمیم سے متعلق ہوئی تو پی پی پی اس کی مخالف کیوں کرسکے گی۔








