لاہور میں لڑکی سے جنسی زیادتی کی خبر پھیلانے والی ’ملزمہ سارا خان‘ کے بارے میں اہم خبر آ گئی
لاہور میں انسداد دہشتگردی عدالت کا فیصلہ
لاہور (ویب ڈیسک) لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے کالج کی طالبہ سے زیادتی کی جھوٹی خبر پھیلانے والی ملزمہ سارا خان کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد میں پاساکھی 13کنویں سے تیل کی پیداوار کا آغاز
ملزمہ کی گرفتاری کی تفصیلات
نجی ٹی وی آج نیوز کے مطابق خاتون کو کراچی سے اٹھائے جانے کے 10 دن بعد لاہور سے گرفتاری ظاہر کی گئی تھی۔ پولیس نے 22 اکتوبر کو ملزمہ سارہ خان کو کراچی سے حراست میں لے کر لاہور منتقل کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، پولیس نے اسی دن جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والی سارہ خان کے خلاف تھانہ گلبرگ میں پیکا ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ خاتون نے سوشل میڈیا پر متاثرہ طالبہ کی والدہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: گھریلو جھگڑے پر بیوی نے اپنے دانتوں سے شوہر کی زبان کاٹ کر بولنے سے مکمل طور پر محروم کردیا
عدالت میں پیشی اور جسمانی ریمانڈ
جج منظرعلی گل نے پراسیکیوشن کی درخواست پر سماعت کی۔ سارہ خان کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لیے انسداد دہشتگردی عدالت لاہور میں پیش کیا گیا۔ ملزمہ کے خلاف تھانہ گلبرگ پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
چاہ اعمال کے اثرات
واضح رہے کہ 14 اکتوبر کو لاہور کے نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کی خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد طلبہ و طالبات مشتعل ہوکر سڑکوں پر نکل آئے تھے اور مذکورہ کالج میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا تھا، جس کے نتیجے میں پولیس سے جھڑپوں میں 27 طلبہ زخمی ہوگئے تھے۔








