ٹرمپ کے صدر بننے پر عمران خان رہا ہوجائیں گے؟ امریکی ترجمان کا بیان سامنے آیا

نیویارک کی پریس بریفنگ
نیویارک (ویب ڈیسک) امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے معمول کی پریس بریفنگ میں پاکستان کی سیاسی صورت حال بالخصوص تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی سے متعلق صحافیوں کے سوالات پر پالیسی بیان دیدیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ کی اکثریت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی حمایت کر دی
عمران خان کی رہائی پر سوالات
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک صحافی نے سوال کیا کہ امریکا کے 60 ارکان پارلیمنٹ کے صدر جوبائیڈن کو عمران خان کی رہائی کے لیے لکھے گئے خط کو "یہودی لابی" کے زیر اثر کہا جا رہا ہے۔ جس پر میتھیو ملر نے کہا کہ میں نے ایسی باتیں کچھ سوشل میڈیا پوسٹوں میں دیکھی ہیں، لیکن ہم نہیں جانتے کہ اس معلومات کو گردش کرنے کے پیچھے کون ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی تک رسائی کا معاملہ، کیا اصلاحاتی کمیٹی کو ملنے سے روکا گیا۔۔۔؟اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
مذہب اور جنسی رجحان کی بات چیت
میتھیو ملر نے کہا کہ اگر لوگ امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں یا ارکانِ کانگریس پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو ان مسائل پر ضرور بات کی جائے، لیکن مذہب یا جنسی رجحان کے بارے میں بات کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: نرس کی بے حسی: نومولود کی جان جانے کی شرمناک داستان
لطیف کھوسہ کے دعوے
ایک اور صحافی نے پوچھا کہ تحریک انصاف کے سینئر رہنما لطیف کھوسہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوگئے تو پاکستان میں سیاسی منظرنامہ عمران خان کے حق میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
اس کے علاوہ، لطیف کھوسہ نے امریکی سفارت کار ڈونلڈ لو کو عمران خان کے وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کی سازش میں ملوث ہونے کا بھی ذکر کیا۔ اس پر میتھیو ملر نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کتنی بار اس پر بات کرچکا ہوں۔ یہ سچ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جیک پال اور مائیک ٹائسن کی مڈبھیڑ: ایک یوٹیوبر کی 31 سال بڑے باکسنگ لیجنڈ کے خلاف لڑائی جو نیٹ فلکس پر براہ راست دکھائی جائے گی
پاکستانی سیاست میں امریکی مداخلت
صحافی نے پوچھا کہ کیا امریکی صدر اور صدارتی امیدواروں کو پاکستانی سیاست میں گھسیٹنا اچھا خیال ہے؟
میتھیو ملر نے جواب دیا کہ جیسا کہ ہم کئی بار کہہ چکے ہیں، سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی پاکستان کا عدالتی معاملہ ہے۔
خلاصہ
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی سیاست میں امریکی عہدیداروں کی مداخلت سے متعلق الزامات غلط ہیں اور یہ بات میں کئی بار دہرا چکا ہوں کہ عمران خان کی برطرفی میں امریکا نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اس معاملے کا فیصلہ پاکستانی عوام کو اپنے ملکی قوانین اور آئین کے مطابق کرنا ہے۔