ایوب خان نے اپنی خودنوشت میں تجزیہ کیا کہ انہیں مغربی پاکستان میں زیادہ ووٹ ملے مگر انہیں مادر ملت کے مقابل کھڑا ہونا ہی نہیں چاہیے تھا

مصنف کا تعارف

مصنف: جسٹس (ر) بشیر اے مجاہد
قسط: 72

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں نان اور خمیری روٹی کی قیمت میں 5 روپے اضافہ

ایوب خان کا سیاسی پس منظر

فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنی خودنوشت کتاب ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ میں اگرچہ یہ تجزیہ کیا ہے کہ انہیں مغربی پاکستان میں زیادہ ووٹ ملے اور مشرقی پاکستان میں بھی ان کی اکثریت تھی…… مگر حقیقت یہ ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان کو محترمہ مادر ملت کے مقابل کھڑا ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔ انہیں اُن کی جماعت کنونشن مسلم لیگ کے سیاست دانوں نے محترمہ فاطمہ جناحؒ کے بارے میں غلط بتایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما طاہر اقبال کی نظر بند کالعدم قرار، فوری رہا کرنے کا حکم

محترمہ فاطمہ جناح کا مقام

وہ قوم کی ماں تھیں اور بانیٔ پاکستان کی ہمشیرہ کی حیثیت سے اُن کے ادب و احترام کا تقاضہ تھا کہ فیلڈ مارشل ایوب خان اُنہیں مناسب احترام دیتے اور اُن کے مقابلہ سے دست کش ہو جاتے۔ کیونکہ ایک ماں کے مقابلے میں جیتنے والا جیت کر بھی ہار جاتا۔ جیسا کہ فیلڈ مارشل ایوب خان اقتدار سے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس سلسلہ میں ہمیشہ شرمندہ شرمندہ ہی رہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب سے کروڈ آئل 15 سے 20 روز میں پاکستان پہنچے گا، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک

1965 کی جنگ کا دور

وہ 1965ء میں پاکستان کے دوبارہ صدر منتخب تو ہو گئے مگر اس کے بعد ایوب خان کے خلاف بہت سی بغاوتیں ہوئیں اور وہ شدید بیمار بھی ہوئے۔
1965 ء کے اس عرصہ میں جب ایوب خان اپنی نام نہاد مقبولیت کا بھانڈا پھوٹ جانے پر سخت پریشان تھے، ہمارے ازلی دشمن بھارت نے 6 ستمبر 1965ء کو پاکستان پر حملہ کر دیا۔ رات کے اندھیرے میں بھارتی فوجیں لاہور شہر پر حملہ آور تھیں مگر پاکستان کے محافظ جاگ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: گورنر سندھ کا 24 دسمبر کو مہاجر کلچر ڈے منانے کا اعلان

قوم کی اتحاد

ایوب خان نے 6 ستمبر 1965ء کو جو تقریر کی اس کا مثبت اثر ہوا۔ پوری قوم متحد و منظم ہو گئی۔ بھارتی حملہ ناکام ہوا مگر مختلف محاذوں پر یہ جنگ 17 روز تک جاری رہی۔ قوم نے ایوب حکومت اور افواج پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور بھارتی ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور جنوبی افریقا کا دوسرا ٹی20 آج لاہور میں ہوگا

تاشقند معاہدہ اور اس کے اثرات

جنگ طرفین کے لیے بے پناہ نقصانات کا باعث ہوتی ہے۔ اس میں ہزاروں افراد کام آئے مگر اس سے ایوب حکومت کو ایک فائدہ ضرور ہوا وہ یہ کہ محترمہ کی احتجاجی تحریک کی وجہ سے ہونے والا نقصان وقتی طور پر دور ہو گیا۔ جنگ کے بعد ایوب خان معاہدۂ تاشقند کے لئے روس کے کہنے پر مذاکرات کی میز پر بیٹھے جہاں وہ میدان جنگ میں ملنے والے مثبت تاثر کو بات چیت کی میز پر ہار گئے اور ملک بھر میں اپوزیشن پارٹیاں پھر اُن کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہ ڈالے،آئی ایم ایف

سیاسی شکست

ایوب خان نے 3 برس تک اپوزیشن کا مقابلہ کیا اور بالآخر 1969ء میں وہ یہ سیاسی جنگ ہار گئے۔ اس دوران اگرچہ انہوں نے اپوزیشن پارٹیوں اور بنگال کے شیخ مجیب الرحمن سے مذاکرات کئے مگر حکومت سے ان کے پاؤں اُکھڑ چُکے تھے اور بالآخر انہوں نے مارچ 1969ء میں صدر مملکت کا عہدہ چھوڑ دیا اور اقتدار چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل آغا یحیٰ خان کے سپرد کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا: وزیراعظم کا قومی پیغامِ امن کمیٹی سے خطاب

کارروائیاں اور جمہوریت کی راہ میں رکاوٹیں

ایوب خان نے اقتدار جنرل یحییٰ خان کو سونپ کر اپنی ادھوری سی جمہوریت کا بھی گلہ گھونٹ دیا۔ یحییٰ خان نے 1962ء کا آئین منسوخ کر کے تمام اسمبلیوں کو تحلیل کر دیا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کی اس سنگین غلطی نے پاکستان میں جمہوریت کا دروازہ بند کر دیا اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو ازسر نو جمہوریت کے لیے جدوجہد کا آغاز کرنا پڑا۔

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...