جب بھی ریپبلکن صدر آتاہے پاکستان سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں: ساجد تارڑ
پاکستان اور امریکی ری پبلکن صدور کے تعلقات
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن )سربراہ مسلمز فار ٹرمپ ساجد تارڑ نے کہا ہے کہ جب بھی ری پبلکن صدر آتا ہے، پاکستان سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان اکرم راجہ کی تمام مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور
امریکی مسلمانوں کی حمایت
ساجد تارڑ کا کہنا ہے کہ 52 فیصد امریکی مسلمان ٹرمپ کی توثیق کر رہے ہیں، اور ان کا یہ یقین ہے کہ ٹرمپ امن قائم کریں گے اور جنگیں ختم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈالر کی قیمت میں بڑی کمی
سیاسی انتقام کے تحت کیسز
انہوں نے کہا کہ تین سال تک امریکی جسٹس ڈیپارٹمنٹ سرگرم رہا، اور جیسے ہی ٹرمپ نے امیدوار بننے کا اعلان کیا، ان کے خلاف کیس بنادیے گئے، جو کہ سیاسی انتقام کی مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جناح ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شاہد رسول انتقال کرگئے
یوکرین جنگ کا تناظر
ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی جنگ امریکا کی نہیں بلکہ یورپ کی جنگ ہے، اور امریکا کو حقیقی آزادی کی ضرورت ہے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ سیاسی معاملات میں عموماً انیس بیس کے فرق سے اثر رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں شفافیت میں اضافہ، کرپشن کم، معیشت ترقی کر رہی: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل
تارکین وطن کی صورتحال
ساجد تارڑ نے بتایا کہ کئی ملین تارکین وطن کو سوئنگ سٹیٹس میں بسایا جا رہا ہے لیکن 21 ملین جرائم پیشہ تارکین کو بے دخل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور نے احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے سرکاری ملازمین کی رہائی پر بڑا اعلان کر دیا
دنیا کے تنازعات اور خارجہ پالیسی
انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہر تنازع کی بنیادی وجہ امریکی کمزور خارجہ پالیسی ہے، جس کا فائدہ دنیا بھر میں اٹھایا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر وہ صدر ہوتے تو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ وقوع پذیر نہ ہوتی۔
ری پبلکن صدور اور پاکستان کے تعلقات
سربراہ مسلمز فار ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب بھی ری پبلکن صدر آتا ہے، پاکستان سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں، اور سیاسی پارٹی ایک مذہبی تحریک میں تبدیل ہو چکی ہے، جبکہ سیاسی لیڈر مرشد بن چکے ہیں۔








