آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع: ‘اچھے کردار کے حامل رہیں اور نتائج دیں، ورنہ!’

پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ نے مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی منظوری دی ہے۔

پیر کی شام بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر اب پانچ سال کرنے سے متعلق آرمی، بحریہ اور فضائیہ کے قوانین کو پہلے ایوان زیریں قومی اسمبلی نے منظور کیا اور پھر فوراً سینیٹ کے اجلاس میں بھی انھیں منظور کر لیا گیا۔ اس دوران دونوں ایوانوں میں اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے مسلسل احتجاج اور ’نو نو‘ کے نعرے لگائے گئے۔ جبکہ سینیٹ کے اجلاس میں خواجہ آصف کی تقریر کے دوران ’شرم کرو، حیا کرو‘ کے نعرے لگے۔

اس بل میں ترمیم کے بعد پاکستان کی بری فوج میں جنرل کی ریٹائرمنٹ کے قواعد کا اطلاق آرمی چیف پر نہیں ہو گا۔ یعنی تعیناتی، دوبارہ تعیناتی یا ایکسٹینشن کی صورت میں آرمی چیف بطور جنرل کام کرتا رہے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آرمی ایکٹ کے تحت آرمی چیف سمیت تمام سروسز چیفس کی مدت ملازمت تین سال مقرر تھی اور ایگزیکٹیو کے اختیارات کے تحت آرمی چیف کو تین سال کی ایکسٹینشن دی جاتی رہی تھی۔

یاد رہے کہ آخری بار مدت ملازمت میں توسیع سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو دی گئی تھی اور ان کی ایکسٹیشن کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی تھی جس کے بعد ایگزیکٹیو نے ان کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی تھی۔

دریں اثنا سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 34 کرنے کے لیے سپریم کورٹ ایکٹ 1997 ترمیمی بل کو بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں منظور کر لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ ایکٹ 2010 کی شق تین میں بھی تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد نو سے بڑھا کر 12 کردی گئی ہے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت پانچ سال کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟

آرمی چیف کی مدت ملازمت پانچ سال کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سروس چیفس کی مدت ملازمت کے تعین کو اچھا اقدام قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا ہے۔ ان کے بقول یہ ایکسٹنشن نہیں بلکہ ’مدت ملازمت کا تعین‘ ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ اچانک نہیں ہوا، اس پر قانونی مشاورت جاری تھی۔ وزیر اعظم اور اتحادی جماعتوں سے مشورہ کیا گیا۔ اس کے بعد ترمیم لائی گئی۔ اس پر تنقید بے جا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یہ قانون سازی کسی فرد کے لیے نہیں بلکہ عہدے اور ادارے کے لیے کی گئی ہے۔

اس سوال پر کہ کیا موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر 2032 تک اس عہدے پر تعینات رہیں گے، انہوں نے کہا کہ اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ اس وقت کی حکومت اور وزیر اعظم کا اختیار ہوگا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’پاکستانی فوج ہمارے دفاع کی ریڑھ کی ہڈی ہے‘ اور یہ کہ پاکستان کی فوج ’دنیا میں بہترین مانی جاتی ہے۔‘

’یہ تسلسل اور استحکام کا معاملہ ہے تاکہ حکمت عملی طویل مدتی ہو۔ اس سے غیر یقینی ختم کی گئی ہے تاکہ اسے پارلیمانی دور کے ساتھ یکجا کیا جائے۔‘

جیو نیوز کے اینکر حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے حکومتی اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ویسے بھی آرمی چیفس کی مدت چھ سال عام ہے۔ آپ سمجھیں کہ ایک سال کی کمی ہوئی ہے۔‘

دوسری طرف قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا کہ سروس چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع ’ملک اور مسلح افواج کے لیے اچھی چیز نہیں۔‘ جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ جس طریقے سے قانون سازی کی گئی وہ غلط ہے۔

تسلسل کے نام پر دفاع مگر ’ہائبرڈ‘ سمجھوتے کا خدشہ

تسلسل کے نام پر دفاع مگر ’ہائبرڈ‘ سمجھوتے کا خدشہ

جہاں ایک طرف حکومتی وزرا کھل کر اس نئی قانون سازی کا دفاع کر رہے ہیں تو وہیں سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

صحافی کامران خان نے ججز کی تعداد میں اضافے اور سروس چیفس کی مدت ملازمت پانچ سال مقرر کرنے کو ’تسلسل‘ اور ’استحکام‘ سے تشبیہ دی ہے۔ اسی طرح کاروباری شخصیت فرازعابد لاکھانی نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے کہا کہ ’پاکستان استحکام کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی سے پالیسی اور گورننس میں تسلسل آئے گا۔

جان اچکزئی نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’یوں سروس چیفس کو وقت ملے گا تاکہ وہ اپنی اہم پالیسیاں اور منصوبے تکمیل تک پہنچا سکیں۔‘

ایشیا گروپ سے منسلک عزیر یونس نے نئی قانون سازی کی روشنی میں تبصرہ کیا کہ اب تکنیکی اعتبار سے موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر ’2032 تک اپنے عہدے پر رہ سکتے ہیں۔‘

تاہم کئی صارفین نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ ایسی قانون سازی جمہوریت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

آئینی ماہر ڈاکٹر مریم ایس خان کہتی ہیں کہ ’جبری گمشدگیوں کے باعث سروس چیفس کے لیے طویل مدت ملازمت تک، ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہائبرڈ ریاست اب نیا آئینی سمجھوتہ بن چکی ہے۔‘

سماجی کارکن اسامہ خلجی نے مسلم لیگ ن کی حکومت اور اس کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب ’تاحیات سپریم کمانڈر کے پاس آئین میں ترمیم، ججز کی تعیناتی اور وزیر اعظم کے چناؤ کا اختیار ہوگا۔ یہ ترامیم اب بورنگ ہوتی جا رہی ہیں۔‘

ایک صارف نے اس بات پر حیرت ظاہر کی کہ یہ ایسا ملک میں ہو رہا ہے جہاں ’ایک حکومت مشکل سے پانچ سال کی مدت پوری کر پاتی ہے۔‘

صارف باقر سجاد نے سوال اٹھایا کہ یہ ذہنیت اب تک کیسے پنپ رہی ہے کہ ’پاکستان کے آرمی چیف کی مدت ملازمت قومی استحکام کے مترادف ہے؟‘

اسی طرح قانونی ماہر صلاح الدین احمد نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’یہ سویلین بالادستی اور پارلیمانی جمہوریت کے لیے اچھا دن ہے۔۔۔ صوبائی خودمختاری اور چارٹر آف ڈیموکریسی کو یقینی بنایا جاسکے گا۔‘

حیدر عباسی نے یہ سن کر افسوس کا اظہار کیا کہ ’آرمی چیف کی مدت ملازمت کم کر کے پانچ سال کر دی گئی ہے۔‘

بعض صارفین نے وزیر اعظم شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کو مشورہ دیا کہ ’اچھے بچے بن کر رہیں اور ڈیلیور کریں، ورنہ!‘

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...