پی ٹی آئی عمران خان کو بیرون ملک بھجوانے کی کوشش کر رہی ہے، خواجہ آصف
عمران خان کو بیرون ملک بھیجنے کی کوششیں
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو بیرون ملک بھجوانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور میں زلزلے کے جھٹکے
بیرونی طاقتوں سے درخواست
خواجہ آصف نے نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی طاقتوں کو یہ (پی ٹی آئی) خود کہہ رہے ہیں کہ پاکستان پر دباؤ ڈالیں تاکہ عمران خان کو رہا کر کے بیرون ملک بھیجا جائے اور وہ ملک عمران خان کو لینے کو بھی تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: Remembering the Painful Earthquake Memories of October 8: PDMA Chief Irfan Ali Khatia on AJK and KP
جغرافیہ کی معلومات
خواجہ آصف سے سوال کیا گیا گیا کہ وہ یورپی ممالک میں سے ہیں یا امریکا، جس پر خواجہ آصف نے بتایا کہ مجھ سے جغرافیہ نہ پوچھیں۔
یہ بھی پڑھیں: جو شخص سیٹ نہیں جیت سکتا، لیکچر مت دے : عظمیٰ بخاری حسن مرتضیٰ پر برس پڑیں
ٹرمپ کی حکومت اور پاکستان
امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کی صورت میں عمران خان کی رہائی سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ مجھے ان لوگوں کی عقل پر ماتم کرنے کا دل چاہ رہا ہے، آپ دیکھیں ٹرمپ کا کیا لینا دینا ہے پاکستان کی اندرونی سیاست سے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ تائیوان کو نئے امریکی ہتھیاروں کی فروخت فوری بند کرے، چین نے امریکہ کو پیغام پہنچا دیا
امریکین اسٹیبلشمنٹ کی طاقت
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ امریکین اسٹیبلشمنٹ وہاں کے سیاست دانوں سے بہت زیادہ مضبوط ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے دنیا میں اسٹیبلشمنٹ اتنی مضبوط نہیں ہے جتنی امریکا میں ہے، وہاں اسٹیبلشمنٹ کے چہرے مختلف ہیں، لیکن ہماری اسٹیبلشمنٹ سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دسمبر میں ’’وزیر اعلیٰ اسپیشل گیمز‘‘ کا انعقاد کیا جائے گا، دنیا بھر سے خصوصی افراد شرکت کریں گے۔
ملٹری ایکٹ پر بات چیت
خواجہ آصف نے قومی اسمبلی و سینیٹ سے منظور کردہ ملٹری ایکٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے توسیع دی جاتی تھی، جنرل (ر) باوجوہ، جنرل (ر) کیانی کو توسیع دی گئی یا پھر پرویز مشرف، جنرل ضیا اور جنرل ایوب خان نے خود کو توسیع دے دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) باجوہ کو تین سال کی توسیع دینے کے قانون سازی کی گئی لیکن وہ صرف ان کے لیے تھی، ہم نے ایکٹ میں جو ترمیم کی ہے یہ صرف موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر تک محدود نہیں ہے، یہ ادارے کے لیے کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہر حال موجودہ نیول چیف اور آرمی چیف کو پہلی بار اس سے فائدہ ہوگا، ایسا کہا جارہا ہے کہ ان کو توسیع دی گئی ہے، حالانکہ ان کو نہیں بلکہ ان کے بعد لوگ بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے۔
عمران خان کا 10 سالہ منصوبہ
ان سے سوال پوچھا گیا کہ بہت سارے لوگ کہہ رہے ہیں کہ 10 سال کا منصوبہ عمران خان لے کر آئے تھے اب ایک 10 سال کا منصوبہ موجودہ حکومت لے کر آئی ہے۔
اس کے جواب میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مجھے کسی منصوبے کا علم نہیں، یہ قیاس آرائیاں ہیں، منفی سوچ رکھنے والے دوست اور سیاسی مبصرین اس کے نقائص نکالنے کی کوشش کریں گے، لیکن اس ملک میں تین سال بعد کیا ہوتا ہے، کیا نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں لوگ بڑے بڑے دعوے کرتے رہے ہیں، وہ دعوے پائیدار ثابت نہ ہوئے، عمران خان والا کوئی 10 سالہ منصوبہ زیر غور نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں کہ کسی طرح معیشت ٹھیک ہو جائے۔








