انگلینڈ کیخلاف پاکستان کی فتح میں علیم ڈار نے اہم کردار ادا کیا، کیا مشورے دیے؟
پاکستان کی جیت کا راز
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی دو ایک کی جیت میں زیادہ تر کریڈٹ سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر عاقب جاوید کو مل رہا ہے۔ تاہم، یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ عالمی شہرت یافتہ ٹیسٹ امپائر علیم ڈار بھی پچ کی تیاری اور ٹیم سلیکشن میں پیش پیش رہے۔ پونے چار سال بعد ہوم گراﺅنڈ پر جیت میں ان کے بہت سے مشورے پاکستان ٹیم کے کام آئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں سے بجلی کے بلوں کی وصولی روک دی
علیم ڈار کی انکساری
لوپروفائل میں رہنے والے علیم ڈار انکساری سے اپنے مشوروں کا کریڈٹ لینے سے کتراتے ہیں۔ امپائر کی حیثیت سے انہوں نے کھلاڑیوں اور دنیا بھر کے گراﺅنڈز کی پچوں کا مشاہدہ کیا۔ پی سی بی نے انہیں سلیکٹر بناکر انوکھا تجربہ کیا، کیونکہ اس سے قبل کوئی ریٹائرڈ امپائر کسی بھی ملک کی سلیکشن کمیٹی کا حصہ نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: سیاست اور جمہوریت ڈیڈلاک یا محاذ آرائی سے نہیں بلکہ بات چیت اور ڈائیلاگ سے آگے بڑھتی ہیں، راناثنااللہ
سلیکشن کمیٹی کا نیا فیصلہ
پی سی بی نے ملتان کے پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد عاقب جاوید اور اظہر علی کے ساتھ علیم ڈار کو سلیکٹر مقرر کیا۔ ان کی آمد پر کئی اعتراضات سامنے آئے، مگر علیم ڈار کے مشورے پاکستان کے لئے مفید ثابت ہوئے۔ کھلاڑیوں نے سلیکٹرز کی پالیسیوں کو عملی جامع پہنایا۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ سراؤں کے ساتھ پولیس کا امتیازی سلوک، پشاور ہائی کورٹ نے آئی جی خیبر پختونخوا سے رپورٹ طلب کر لی
علیم ڈار کا کیریئر
علیم ڈار کا شاندار اور باوقار کیریئر ایک چوتھائی صدی پر محیط ہے۔ انہیں میدان میں اور میدان کے باہر حقیقی جنٹلمین کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور وہ آئی سی سی امپائر آف دی ایئر (2009-2011) کیلئے ڈیوڈ شیفرڈ ٹرافی کے تین بار فاتح بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سلیکٹر کا نامناسب رویہ اور فحش سوالات، سابق بنگلادیشی خاتون کرکٹر کے الزامات پر تحقیقات کا فیصلہ
میچز کا تجربہ
56 سالہ علیم نے 1986 سے 1998 کے دوران 17 فرسٹ کلاس اور 18 لسٹ اے میچز کھیلے۔ انہوں نے 1998 کی قائداعظم ٹرافی کے دوران فرسٹ کلاس امپائرنگ کا آغاز کیا اور 2003 سے 2023 تک آئی سی سی ایلیٹ امپائرنگ پینل میں شامل رہے، جہاں انہوں نے ریکارڈ 145 ٹیسٹ، 231 ون ڈے انٹرنیشنل، 72 ٹی 20 انٹرنیشنل، 5 ویمنز ٹی 20 انٹرنیشنل، 181 فرسٹ کلاس اور 282 لسٹ اے میچز میں امپائرنگ کی۔
یہ بھی پڑھیں: اس وقت ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے پر غور کرنا وقت کا ضیاع ہوگا، ٹرمپ
ریٹائرمنٹ کا فیصلہ
ریٹائر ہونے کے فیصلے پر ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 25 سال سے امپائرنگ میری زندگی رہی ہے اور میں نے اس نسل کے عظیم ترین کھلاڑیوں پر مشتمل چند انتہائی یادگار میچوں میں امپائرنگ کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپئیرئیر کالج رائیونڈ کے سپورٹس فیسٹیول کے سلسلے میں تقریب ، ایسے پروگرام کروانے کا مقصد طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے: عقیل احمد چوہدری
پچ کی تیاری پر توجہ
حد درجہ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف ملتان کے پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد سلیکشن کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں علیم ڈار نے کرکٹ بورڈ اور ساتھی سلیکٹرز کو بتایا کہ قانون کے مطابق ملتان ٹیسٹ کیلئے استعمال ہونے والی پچ پر دوسرا ٹیسٹ بھی کرایا جا سکتا ہے۔ یہ نکتہ کئی لوگوں کو حیران کر گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسد قیصر کا بھائی بھی اسلام آباد میں گرفتار
دوسرے ٹیسٹ کی کامیابی
اس تجویز پر عاقب جاوید نے چیف کیوریٹر ٹونی ہیمنگ کے ساتھ پچ پر کام کیا، ٹیم سلیکشن میں بھی علیم ڈار نے کئی اچھے مشورے دیے۔ ملتان میں پاکستان نے دوسرا ٹیسٹ جیتا اور تیسرے ٹیسٹ کیلئے پچ کی تیاری کا کام شروع ہوا تو یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ اس پچ پر ہمیشہ فاسٹ بولرز کامیاب ہوتے رہے ہیں، جبکہ سپنر کچھ نہیں کر سکتے۔
سپنرز کی شاندار پرفارمنس
عالمی میڈیا نے پنڈی ٹیسٹ سے قبل بڑے ہیٹرز اور پنکھوں کو پچ پر دیکھا۔ پچ کی تیاری کیلئے علیم ڈار اور عاقب جاوید نے دروازے بند کرکے بھی کام کیا۔ میچ شروع ہوا تو پچ نے اپنی سابقہ ریکارڈ کے برعکس پہلے ہی گھنٹے میں سپن لینا شروع کردیا اور پاکستان نے سپنرز نعمان علی اور ساجد خان کی تباہ کن بولنگ کی بدولت انگلینڈ کو 9 وکٹ کی شکست سے دوچار کیا۔








