ڈینگی کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مچھروں کو بہرہ کرنے کا منصوبہ
ڈینگی بخار کی روک تھام کے نئے طریقے
کیلیفورنیا (ڈیلی پاکستان آن لائن) ماہرین نے کہا ہے کہ مچھروں کو بہرا کرنے سے ڈینگی بخار کا پھیلاؤ روکا جاسکتا ہے۔ سائنس دانوں نے trpVa نامی پروٹین کو نشانہ بنایا ہے جو قوتِ سماعت کے لیے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم عوام کی نمائندگی نہیں کرتی، 31 اکتوبر کو منظور ہوجاتی تو کیا ہوجاتا؟ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی کڑی تنقید
زرد بخار اور زیکا کے خلاف کوششیں
ڈینگی اور زرد بخار (Zika) کو روکنے کے لیے ماہرین ایک طویل عرصے سے کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سے تجربے بھی کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جشنِ رحمۃ للعالمین ﷺ کے سلسلے میں مجیب الرحمان شامی کی زیر صدارت ’’نونہال سیرت کانفرنس‘‘
مچھروں کی سماعت کو نشانہ بنانا
اب کہا جارہا ہے کہ مچھروں کو قوتِ سماعت سے محروم کرنے کی صورت میں ڈینگی، زرد بخار اور زیکا کے پھیلاؤ کو روکنے میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس سردار سرفراز ڈوگر 8 جولائی کو بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عہدے کا حلف اٹھائیں گے
نر اور مادہ مچھر کے ملاپ میں رکاوٹ
مچھروں کو بہرا کرنے کا بنیادی مقصد نر اور مادہ مچھروں کو ملاپ کے لیے ملنے سے روکنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات کیلئے مطالبات کا ڈرافٹ تیار کر لیا
مچھر کی آواز کا کردار
نر اور مادہ دونوں ہی مچھر پرواز کے دوران ایک منفرد فریکوئنسی کے ساتھ اپنے پروں کے ذریعے آواز پیدا کرتے ہیں۔ نر مچھر پروں کی اِس آواز کو سن کر ہی متوجہ ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات سامنے آگئے
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین کی کامیابی
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین نے کچھ تجربات کیے ہیں اور نر مچھروں کی قوتِ سماعت کو نشانہ بنانے کا سوچا۔ لیب میں تجربات کے دوران کبھی کبھار ایک ہی پنجرے میں رکھنے کی صورت میں مادہ مچھروں کی طرف نر مچھروں کی توجہ بھی نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس جاری
trpVa پروٹین کی اہمیت
ان محققین نے trpVa کو نشانہ بنایا اور بہت حد تک کامیاب رہے۔ جن مچھروں میں یہ پروٹین نہیں تھی، وہ مادہ مچھروں کی طرف متوجہ نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق کی فتح پر کارڈف میں شاندار تقریب، ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل مہمان خصوصی
مردم شماری میں مچھروں کا کردار
ہر سال مادہ مچھروں کے ہاتھوں کم و بیش 40 انسانوں میں مختلف بیماریاں پھیلتی ہیں۔ اب ماہرین مچھروں کی افزائشِ نسل روک کر ڈینگی اور زرد بخار وغیرہ کی روک تھام چاہتے ہیں۔
نئے نظریات اور مستقبل کے امکانات
مچھروں کو بہرا کرنے کے ساتھ ساتھ سائنسدان نس بندی والے مچھروں کو مچھروں کی زیادہ افزائش والے علاقوں میں چھوڑنے کے آپشن پر بھی غور کر رہے ہیں۔








