یونیسکو کا پاکستان میں میڈیا اینڈ انفارمیشن لٹریسی کی حکمت عملی پر مشاورت کا آغاز
یونیسکو کا نیا منصوبہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) یونیسکو نے پاکستان میں میڈیا اور انفارمیشن لٹریسی (این آئی ایل) پالیسی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لئے ایک منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے میں میڈیا فاؤنڈیشن 360 کے تعاون سے اہم اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کی جنگ دراصل دونوں ملکوں کی ہار جیت نہیں بلکہ بھارت کی فتح ہے،سراج الحق
افتتاحی کانفرنس
افتتاحی کانفرنس شعبہ ڈیجیٹل میڈیا، پنجاب یونیورسٹی، لاہور میں منعقد ہوئی، جس میں پالیسی سازوں، میڈیا پروفیشنلز، ماہرینِ تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کا مقصد معلومات کا تنقیدی جائزہ لینے، جعلی خبروں، گمراہ کن معلومات اور نفرت انگیز مواد کا پھیلاو روکنے کے حوالے سے لوگوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نازیبا ویڈیوز کس نے وائرل کی تھیں؟ اداکارہ و ماڈل متھیرا نے انکشاف کردیا
پروفیسر ڈاکٹر سویرا شامی کا تعارف
پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ڈیجیٹل میڈیا کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر سویرا شامی نے شرکاء کو منصوبے کے مقاصد اور موجودہ دور میں میڈیا اینڈ انفارمیشن لٹریسی کی ضرورت پر بریفنگ دی۔ یونیسکو کے نیشنل پروفیشنل آفیسر حمزہ خان سواتی نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کو بڑھانے کے حوالے سے یونیسکو کے عزم پر روشنی ڈالی۔
یہ بھی پڑھیں: اہلیہ سے صلح کی کوشش میں ناکامی، داماد نے ساس کو قتل کر دیا
اختتامی کانفرنس کی تیاری
اس سلسلے میں صوبائی اور ضلعی سطح پر بھی سیشنز کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ اختتامی کانفرنس اسلام آباد میں ہو گی، جس میں مرتب کئے جانے والے فریم ورک کا مسودہ پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: والدین ہوشیار رہیں، اپنے بچوں کو کسی بھی فساد کا ایندھن نہ بننے دیں: عظمیٰ بخاری
نمائندگی اور تجاویز
افتتاحی کانفرنس میں نمایاں مقررین میں پنجاب کے سیکرٹری برائے اطلاعات و ثقافت سید طاہر رضا ہمدانی، پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ، اور روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی شامل تھے۔ انہوں نے جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کے منفی اثرات اور ایم آئی ایل کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: صائم ایوب نے برائن لارا کا 31سالہ ریکارڈ توڑ دیا
کانفرنس کے تین سیشن
کانفرنس میں مزید تین سیشن بھی ہوئے جن میں ایم آئی ایل کے جامع فریم ورک کے اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان سیشنز میں میڈیا کے اختیار اور ریگولیشن میں توازن، شہریوں کے لئے موثر میڈیا اور ڈیجیٹل خواندگی کے فریم ورک کی تشکیل، اور پاکستان کی ثقافتی اور لسانی تنوع کو شامل کرنے کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر، فہرست میں کراچی کا کونسا نمبر ہے؟ جانیے
ایم آئی ایل حکمت عملی کی نشاندہی
اجلاس کے دوران، شرکاء نے ایم آئی ایل حکمت عملی کے اہم مقاصد بیان کیے، جن میں سب اسٹیک ہولڈرز میں شعور بیداری اور پرائمری سکولوں میں ایم آئی ایل کو نصاب کا حصہ بنانے کی تجاویز شامل تھیں۔
ملکی اور عالمی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگی
ایم آئی ایل منصوبہ پاکستان کی قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور قومی تعلیمی پالیسی، نیشنل ایکشن پلان، اور اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کی تکمیل کرتا ہے، خاص طور پر SDG 4 (معیاری تعلیم) اور SDG 16 (امن، انصاف اور مضبوط ادارے) کے اہداف کے ساتھ۔ اس منصوبے کا مقصد شہریوں کو ڈیجیٹل لٹریسی اور تنقیدی سوچ کی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ ایک ذمہ دار ڈیجیٹل معاشرے کی تشکیل کی جا سکے۔








