آئی ٹی برآمدات 25 ارب ڈالر تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں:وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف کا عزم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آئندہ تین سالوں میں پاکستان سے آئی ٹی کی برآمدات کو 25 بلین ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کے حصول کے لئے پر عزم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں کلین اپ آپریشن مکمل، آلائشیں اٹھانے کا نیا ریکارڈ بن گیا ،وزیر اعلیٰ کی اداروں کو شاباش،ملازمین کو 10 ہزار روپے انعام
وی آن گروپ سے ملاقات
وزیراعظم سے وی آن (VEON) گروپ کے چیئرمین جناب آوگی کے فیبیلا کی قیادت میں 5 رکنی وفد کی ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے کی ترقی و ترویج کے لئے کوشاں ہے اور دور دراز علاقوں میں بھی تیز تر موبائل انٹرنیٹ کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹریفک آرڈیننس پر عمل درآمد روکنے کی افواہوں پر حکومت پنجاب کی وضاحت آگئی۔
5 جی انٹرنیٹ سروسز
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں تیز تر اور قابل اعتماد انٹرنیٹ سروسز کے لئے 5 جی انٹرنیٹ کی سروسز متعارف کرانے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، 5 جی سروسز کی بدولت ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن کا حصول ممکن ہو سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: انڈین نیوز ایجنسی کا ویکیپیڈیا کے خلاف مقدمہ: ویکیپیڈیا کی فعالیت اور اس پر اعتماد کی سطح کیا ہے؟
کیش لیس اور ڈیجیٹل معیشت
وفد سے ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں کیش لیس اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے حوالے سے ٹیلی کام سیکٹر کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، وی آن کی سبسیڈئری ”جاز“ گروپ پاکستان میں ٹیلی کمیونی کیشن اور فنانشل ٹیکنالوجی کے شعبے میں اہم کردار کر رہا ہے۔ پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کے حوالے سے وی آن گروپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں خاتون کے سامنے کپڑے اتارنے والے شخص کی ویڈیو وائرل، گرفتار کرلیا گیا
معاشی استحکام کی تعریف
وفد نے ملک میں حالیہ معاشی استحکام کے حوالے سے حکومتی کوششوں کی تعریف کی اور گفتگو میں کہا کہ پاکستان آئی ٹی و ٹیلی کام کے شعبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک اہم ملک بن چکا ہے۔
حاضرین کی فہرست
ملاقات میں وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔








