تعلیم عام کرنے کا فائدہ یہ بھی ہو گا کہ عوام میں سیاسی شعور، بنیادی شہری و جمہوری حقوق کی شناخت پیدا ہو گی،غلط اور صحیح میں تمیز کرنے میں آسانی ہو گی

مصنف کی سوچ

مصنف: جسٹس (ر) بشیر اے مجاہد
قسط: 78

یہ بھی پڑھیں: وزیرخارجہ اسحٰق ڈار کا افغان ہم منصب سے رابطہ، بھارتی اشتعال انگیزی سے آگاہ کیا

تعلیم کی اہمیت

دنیا کا بہترین عدالتی نظام قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس ملک میں تعلیم کے حصول کو سستا اور آسان بنائیں۔ تعلیم کو ضروری اور آسان بنایا جائے۔ ملک بھر میں بچوں کی ابتدائی تعلیم میٹرک تک مفت اور بلامعاوضہ ہونی چاہئے اور ہر شہری کے لئے لازم ہو کہ وہ کم از کم میٹرک کا امتحان پاس کرے۔ اس صورت میں اسے معاشرے میں روزگار، شناختی کارڈ، اور پاسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا آئی سی سی کو ایک اور خط، تحفظات پر غور کرنے پر زور

سیاسی شعور کا فروغ

تعلیم کے عام ہونے سے عوام میں سیاسی شعور اور اپنے بنیادی شہری و جمہوری حقوق کی شناخت پیدا ہوگی۔ اس کے ذریعے عوام کو صحیح اور غلط امور میں تمیز کرنے میں آسانی ہوگی۔ حکومت پاکستان کو متعدد تعلیمی نظام نافذ کرنے کی بجائے ایک جدید ترین نظام تعلیم اپنانا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق کی فتح پر کارڈف میں شاندار تقریب، ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل مہمان خصوصی

مدرسے کی تعلیم کی حقیقت

مدرسوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؟ ہر سال لاکھوں مولوی پیدا ہو رہے ہیں، جس سے ملک میں مذہبی فرقہ بندی اور تعصبات کو فروغ ملتا ہے۔ ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم ہونا چاہئے، جس میں ہر شخص کو مذہبی تعلیم کے ساتھ جدید کمپیوٹر سائنس جیسی دیگر مضامین کی تعلیم بھی دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے روسی نائب وزیر دفاع کی اہم ملاقات

جدید دور کا تقاضا

اب ہمارے علماء کرام انگریزی تعلیم سے گریز نہیں کرتے؛ وہ خود انگریزی سیکھتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے شاگردوں کو انگریزی سے نابلد کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟ ملک میں تعلیم کے عام ہونے سے آئین کی بالادستی، عدالتوں کا احترام اور جمہوریت کی قدر میں اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: قربانی — رسم سے روح تک

سنیارٹی کے اصول کی اہمیت

ہر حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جوڈیشری اور تمام سرکاری محکموں میں سنیارٹی کے اصول کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے۔ جہاں بھی اس اصول کو نظرانداز کیا گیا ہے، اس کے ناگوار نتائج ملک کو بھگتنا پڑے ہیں۔ مثال کے طور پر، بھٹو نے فوج میں سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کیا تو اسے بھی منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کے دوران 17 اموات، رپورٹ ہائیکورٹ میں جمع

عدلیہ کا وقار

جب حکمران جوڈیشری میں سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں اعلیٰ عدلیہ کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں عدالتیں تقسیم ہو جاتی ہیں اور عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہوریوں کو مضر صحت مرغیاں کھانے سے بچا لیا گیا، بڑی کھیپ تلف

ضابطوں کا نفاذ اور جوڈیشری کی خود مختاری

جوڈیشری کے ایک جانب دارانہ فیصلے سے اعلیٰ ترین عدالت سے عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ عدالتیں آئینی تشریح اور قانون کے نفاذ کے مقاصد کے حامل مقدمات کا سامنا کریں، جبکہ سیاسی مقدمات میں نہیں الجھیں۔

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...