تعلیم عام کرنے کا فائدہ یہ بھی ہو گا کہ عوام میں سیاسی شعور، بنیادی شہری و جمہوری حقوق کی شناخت پیدا ہو گی،غلط اور صحیح میں تمیز کرنے میں آسانی ہو گی

مصنف کی سوچ

مصنف: جسٹس (ر) بشیر اے مجاہد
قسط: 78

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا موجودہ سولر صارفین سے نیٹ بلنگ وصولی نہ کرنے کا فیصلہ

تعلیم کی اہمیت

دنیا کا بہترین عدالتی نظام قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس ملک میں تعلیم کے حصول کو سستا اور آسان بنائیں۔ تعلیم کو ضروری اور آسان بنایا جائے۔ ملک بھر میں بچوں کی ابتدائی تعلیم میٹرک تک مفت اور بلامعاوضہ ہونی چاہئے اور ہر شہری کے لئے لازم ہو کہ وہ کم از کم میٹرک کا امتحان پاس کرے۔ اس صورت میں اسے معاشرے میں روزگار، شناختی کارڈ، اور پاسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی مسافر طیارے کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 242 ہوگئی

سیاسی شعور کا فروغ

تعلیم کے عام ہونے سے عوام میں سیاسی شعور اور اپنے بنیادی شہری و جمہوری حقوق کی شناخت پیدا ہوگی۔ اس کے ذریعے عوام کو صحیح اور غلط امور میں تمیز کرنے میں آسانی ہوگی۔ حکومت پاکستان کو متعدد تعلیمی نظام نافذ کرنے کی بجائے ایک جدید ترین نظام تعلیم اپنانا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم نے فوری طورپر 28ویں ترمیم لانے کا مطالبہ کردیا

مدرسے کی تعلیم کی حقیقت

مدرسوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؟ ہر سال لاکھوں مولوی پیدا ہو رہے ہیں، جس سے ملک میں مذہبی فرقہ بندی اور تعصبات کو فروغ ملتا ہے۔ ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم ہونا چاہئے، جس میں ہر شخص کو مذہبی تعلیم کے ساتھ جدید کمپیوٹر سائنس جیسی دیگر مضامین کی تعلیم بھی دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: افسر کو گریڈ 20 سے 21 میں ترقی نہ دینے کا سینٹرل سلیکشن بورڈ کا فیصلہ کالعدم قرار

جدید دور کا تقاضا

اب ہمارے علماء کرام انگریزی تعلیم سے گریز نہیں کرتے؛ وہ خود انگریزی سیکھتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے شاگردوں کو انگریزی سے نابلد کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟ ملک میں تعلیم کے عام ہونے سے آئین کی بالادستی، عدالتوں کا احترام اور جمہوریت کی قدر میں اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: فہد مصطفیٰ کی بری عادت کیا ہے؟ فہد شیخ نے بتادیا

سنیارٹی کے اصول کی اہمیت

ہر حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جوڈیشری اور تمام سرکاری محکموں میں سنیارٹی کے اصول کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے۔ جہاں بھی اس اصول کو نظرانداز کیا گیا ہے، اس کے ناگوار نتائج ملک کو بھگتنا پڑے ہیں۔ مثال کے طور پر، بھٹو نے فوج میں سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کیا تو اسے بھی منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ تمام نئی تعمیرات میں بجلی کی تاریں زیر زمین ہونگی، پرانی تاروں کو بھی مرحلہ وار انڈر گراؤنڈ کیا جائیگا: عظمیٰ بخاری

عدلیہ کا وقار

جب حکمران جوڈیشری میں سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں اعلیٰ عدلیہ کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں عدالتیں تقسیم ہو جاتی ہیں اور عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور کی سرکٹ ہاؤس میں اعلیٰ حکام سے اہم میٹنگ جاری

ضابطوں کا نفاذ اور جوڈیشری کی خود مختاری

جوڈیشری کے ایک جانب دارانہ فیصلے سے اعلیٰ ترین عدالت سے عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ عدالتیں آئینی تشریح اور قانون کے نفاذ کے مقاصد کے حامل مقدمات کا سامنا کریں، جبکہ سیاسی مقدمات میں نہیں الجھیں۔

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...