فاسٹ ٹریک کیٹیگری میں بیک لاگ مکمل ختم ہوگیا: ڈی جی پاسپورٹ
اسلام آباد میں پاسپورٹ کی صورتحال
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس، مصطفیٰ قاضی کا کہنا ہے کہ پہلے ہر روز 75 ہزار پاسپورٹس بننے آتے تھے جبکہ صلاحیت 22 ہزار کی تھی مگر اب ہمارے پاس 25 پرنٹرز آنے سے صلاحیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پلڈاٹ نے سال 2025 کے اختتام پر جمہوریت کے معیار پر جائزہ رپورٹ جاری کر دی
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں پاسپورٹس کی فراہمی میں تاخیر کا معاملہ زیربحث آیا۔ اجلاس میں ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس مصطفیٰ قاضی نے داخلہ کمیٹی کو بریفنگ بھی دی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بار پھر صدر بننے کا دعویٰ
پرانی مشینوں کا استعمال
بریفنگ میں مصطفیٰ قاضی نے بیان دیا کہ 20 سال پرانی مشینوں کو استعمال کیا جارہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ای پاسپورٹس کی دو نئی مشینیں بھی آرہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: کالج کا سیکورٹی گارڈ انٹرنیٹ سے ہر ماہ لاکھوں روپے کماتا ہے، انگریزی نہیں آتی پھر بھی انٹرنیٹ سے کیسے کمائی کرتا ہے؟ ان کی کہانی تمام نوجوانوں کا حوصلہ بڑھا دے
بیک لاگ کی صورتحال
مصطفیٰ قاضی نے مزید بتایا کہ فاسٹ ٹریک کیٹیگری میں بیک لاگ مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے۔ ارجنٹ کیٹیگری میں ایک لاکھ 70 ہزار کا بیک لاگ ہے جو آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں ختم ہوجائے گا۔ جب میں نے عہدہ سنبھالا تو 15 لاکھ کا بیک لاگ تھا جسے ختم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو اپنی عالمی حیثیت کی کمزوریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ٹرمپ اور مودی کے تعلقات کیسے بگڑے ۔۔۔؟ نیو یارک ٹائمز نے وجوہات بتا دیں
مالی چیلنجز
ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال 50 ارب اور اس سال اب تک 20 ارب کما چکے ہیں مگر ہمارے پاس فنڈز کی شدید قلت ہے۔ وزارت خزانہ نے ہماری کوششوں کی مخالفت کی ہے، انہیں ریونیو شیئرنگ فارمولا میں ہماری مدد کرنی چاہیے۔
نئے پرنٹرز کی خریداری
انہوں نے مزید کہا کہ پرنٹرز کے لئے انہوں نے انٹرنیشنل ٹینڈر کیا ہے۔ جرمنی کے پرنٹرز سستے ہیں اور ان کی پرنٹنگ صلاحیت زیادہ ہے، ایک گھنٹے میں 4 ہزار پاسپورٹس پراسس کیے جاسکتے ہیں۔








