قائمہ کمیٹی اجلاس کے دوران سخت سوالات پر آئی جی اسلام آباد برہم، تلخ جملوں کا تبادلہ
اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک کے ایوان زیریں (قومی اسمبلی) کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ارکان کے سخت سوالات پر انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) اسلام آباد سید علی ناصر رضوی غصے میں آگئے۔ اس دوران تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ای سی او وفد کی وزیر اعلیٰ کی دعوت پر لاہور آمد ، مستقل مندوبین کونسل کے294 ویں اجلاس میں شرکت
اجلاس کی تفصیلات
ڈان نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین راجا خرم نواز کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ کمیٹی نے اسلام آباد پولیس کی کارکردگی کا ڈیٹا طلب کیا، جس پر آئی جی پولیس اسلام آباد نے کارکردگی رپورٹ پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے میزائل اور ڈرون حملے، خلیجی ممالک میں امریکی فوجی مواصلاتی تنصیبات اور ریڈومز شدید متاثر
سخت سوالات کا سامنا
اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن قادر پٹیل نے پوچھا "سزا دلوانے کے اعداد و شمار کیا ہیں؟" جس پر چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ "ڈاکوؤں کو 2 چار ماہ سے زیادہ سزا نہیں ہوتی۔"
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو جیل سے باہر لانے کے لیے فی الحال امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، یہ واحد راستہ ہے: قاسم خان
آئی جی کا غصہ اور جواب
آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ پولیس وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی یلغار اور حملوں کو روکنے میں لگی رہی۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے لفظ "یلغار" کہنے سے روکا تو آئی جی غصے میں آگئے اور کہا: "کیا وہ سوالوں کے جواب نہ دیں؟"
یہ بھی پڑھیں: معروف پاکستانی اداکارہ کے ہاں شادی کے سات سال بعد پہلے بچے کی آمد متوقع
چیئرمین کمیٹی کا ردعمل
چیئرمین کمیٹی نے جواب دیا کہ "یونیفارم نہ پہنا ہوتا تو اجلاس سے اٹھا کر باہر بھیج دیتا لیکن وردی پر لگے جھنڈے کی عزت کی پروا ہے۔" راجا خرم نواز نے مزید کہا کہ "لڑائی کیوں کر رہے ہیں؟ اس وقت تھانوں میں جانے سے ڈر لگتا ہے۔"
جرائم کا بڑھتا ہوا مسئلہ
آئی جی نے کہا: "کیا اس بیان کو آبزرویشن سمجھا جائے؟" چیئرمین کمیٹی نے جواب دیا: "بالکل سمجھا جائے، یہ رویہ شرم کی بات ہے۔ سچ یہ ہے کہ اسلام آباد میں جرائم کے کئی واقعات کی ایف آئی آر تک نہیں ہوتی۔"







