پاکستان آئی ایم ایف مذاکرات، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
آئی ایم ایف کا حکومت سے مطالبہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نجی ٹی وی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے حکومت سے پٹرلیم مصنوعات پر عائد لیوی کی شرح میں اضافے کا مطالبہ کردیاہے۔
یہ بھی پڑھیں: قانون سازی کا یہ طریقہ کار درست نہیں، مدت ملازمت میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے، بیرسٹر گوہر
مذاکرات کا آغاز
آج نیوز کے مطابق پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے ہیں اور پہلے روز ٹیکنیکل سطح پر ہوئی بات چیت میں ہی پاکستان کو پٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس عائد کرنے کے علاوہ لیوی بھی 70 روپے کرنے کی تجویز دے دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی بانی پی ٹی آئی کی تصاویر لے کر نعرے بازی، کسانوں کو ریلیف دینے کا مطالبہ، وزراء کی غیر حاضری پر کڑی تنقید
موجودہ صورتحال
اس وقت صفر جی ایس ٹی عائد ہے، پیٹرولیم مصنوعات پر 60 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے، جسے بڑھا کر 70 روپے کرنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف کی ٹیم ناتھن پورٹر کی سربراہی میں پاکستان پہنچی اور پہلے دن ٹیکنیکل سطح پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے وائس چیئرپرسن بیرسٹر امجد ملک کی مانچسٹر میں نئے قونصل جنرل سے ملاقات
حکومتی ملاقاتیں
آئی ایم ایف ٹیم سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو، وزارت خزانہ، سٹیٹ بینک اور وزارت توانائی کے حکام نے ملاقات کی۔ اس موقع پرایف بی آر کے اہداف میں کمی کو پورا کرنے پر بات چیت ہوئی، اس کے علاوہ انرجی سیکٹر کی اصلاحات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
آنے والے دنوں میں کیا ہوگا؟
واضح رہے کہ آئی ایم ایف کا وفد 15 نومبر تک پاکستان میں رہے گا، جسے پہلی سہ ماہی کی معاشی کارکردگی پر بریفنگ دی جائے گی۔








