مراکز صحت کی ری ویمپنگ کیلیے 31دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر، بوسیدہ عمارتیں چمچماتے کلینکس میں تبدیل ہونگی:مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب کا علاج کی سہولتوں میں بہتری کا عزم
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے عوام کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کے عزم کے تحت پنجاب بھر میں تمام مراکز صحت کی بیک وقت ری ویمپنگ کا ریکارڈ تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دیہات اور سیمی اربن علاقوں سمیت تمام مراکز صحت کی بوسیدہ خستہ حال عمارتیں چمچماتے کلینکس میں تبدیل ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور سنی اتحاد کونسل کے رکن شاہد خٹک کے درمیان ہاتھا پائی
پنجاب کے مراکز صحت کی ری ویمپنگ کا منصوبہ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ بھر کے تمام مراکز صحت کی ری ویمپنگ کے لیے 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی۔ محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کے 1236 مراکز صحت کی ری ویمپنگ اور بحالی کا پراجیکٹ تیزی سے جاری ہے۔ ری ویمپنگ پراجیکٹ میں سنٹرل پنجاب کے 286، نارتھ زون کے 363 اور جنوبی زون کے 587 مراکز صحت شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان ٹیسٹ، چوتھے دن کا کھیل ختم، پاکستان پر شکست کے بادل منڈلانے لگے
ری ویمپنگ کی پیش رفت
سیکرٹری تعمیرات و مواصلات سہیل انور کے مطابق وسطی پنجاب کے مراکز صحت کی 20 فیصد، شمالی زون کی 28 فیصد اور جنوبی پنجاب کی 25 فیصد سے زائد کی ری ویمپنگ مکمل کر لی گئی۔ پنجاب بھر میں 1219 مراکز صحت کو فیملی کلینکس کی شکل دینے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ 772 یونٹس پر پلاسٹرنگ، 384 کی فلورنگ اور 74 ہیلتھ یونٹس کی فنشنگ تیزی سے جاری ہے۔ محکمہ تعمیرات و مواصلات کی خصوصی ٹیمیں تیزی سے تکمیل کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 4ماہ میں 11.84ارب ڈالر پاکستان بھیجے، سٹیٹ بینک
شفافیت اور معیار کی یقین دہانی
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مراکز صحت کی فیملی کلینکس کے طور پر ری ویمپنگ پلان میں تعمیراتی معیار اور شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام کو علاج کی بہترین سہولتوں کے لیے کیا گیا وعدہ پورا کریں گے۔ پنجاب بھر کے بنیادی مراکز صحت کو نہ صرف جدید ترین کلینکس میں بدلیں گے بلکہ ڈاکٹروں اور سٹاف کی کمی بھی پوری ہوگی۔
دیہاتی علاقوں کی صحت کی سہولیات میں بہتری
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے دیہات کے مراکز صحت کو ایسے کلینکس میں تبدیل کریں گے جو پرائیویٹ ہسپتالوں سے بھی بہتر دکھائی دیں گے۔ عوام کو صحت کی بہترین سہولتیں دہلیز پر فراہم کرنے سے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا رش کم ہوگا۔