منی بجٹ اور پٹرلیم مصنوعات پر جی ایس ٹی لگانے سے متعلق اہم فیصلہ
مذاکرات میں پیشرفت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم کا بہت بڑا فین ہوں، سری لنکن بلے باز سدھیرا سماراوکرما
منی بجٹ اور ٹیکس کی صورتحال
ہم نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ کوئی منی بجٹ نہیں آئے گا، 12 ہزار 970 ارب کا ہدف برقرار رہے گا جبکہ پٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس بھی نہیں لگایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے جے ڈی اے میں شامل ہونے کی افواہوں کی حقیقت سامنے آگئی
آئی ایم ایف کی تسلی
ہم نیوز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے مطابق آئی ایم ایف نے ٹیکس محصولات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہوگئی ہے، آئی ایم ایف ٹیکس ٹو جی ڈی پی میں 1.5 فیصد بہتری پر مطمئن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر 9 مئی پلان کامیاب ہو جاتا تو آج ہم سے کوئی شخص زندہ نہ ہوتا : خواجہ آصف
زرعی آمدن اور ٹیکس وصولی
زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی اگلے سال سے شروع ہو جائے گی، اور آئی ایم ایف کے ساتھ مزید مذاکرات بھی ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا اور حکومتی کی سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
تاجر دوست اسکیم میں تبدیلی
آئی ایم ایف کے ساتھ تاجر دوست اسکیم میں کچھ تبدیلیوں پر بات چیت متوقع ہے۔ تین ماہ میں ریٹیلرز سے 12 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا ہے۔
نئے تاجروں کی تعداد میں اضافہ
4 لاکھ نئے تاجروں نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں، جبکہ رجسٹرڈ تاجروں کی تعداد 2 لاکھ سے بڑھ کر 6 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔








