توشہ خانہ ون کیس؛ نیب نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا کردی
اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ ون کیس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ ون کیس میں نیب نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سزا کالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا کردی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سزا کالعدم قرار دے کر کیس ریمانڈ بیک کردیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: 50 ویں چیف آف دی آرمی سٹاف پولو اینڈ ٹینٹ پیگنگ چیمپئن شپ، فیلڈ مارشل کی بطور مہمان خصوصی شرکت
سماعت کا آغاز
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی توشہ خانہ ون کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے وکیل علی ظفر نے دلائل کا آغاز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کا تیل 2.5 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کا فیصلہ
استثنیٰ کی درخواست
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بشری بی بی کی جانب سے استثنیٰ کی درخواست دائر کرنا چاہتا ہوں۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ دے دیں، اس متعلق پریشان نہ ہوں، آرڈر کردیں گے۔ علی ظفر نے یہ بھی بتایا کہ نیب پراسیکیوٹر نے استثنیٰ کی درخواست پر اعتراض نہیں کرنے کا کہا۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں اہم پیشرفت، جے آئی ٹیز کی تفتیش مکمل، علیمہ اور عظمیٰ خان سمیت کون کون قصوروار قرار؟ جانیے
پراسیکیوٹر کا موقف
چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا پیپرز باکس بنی ہوئی ہیں؟ پراسیکیوٹر امجد پرویز نے کہا کہ میں توشہ خانہ کیس میں سزا کے طریقہ کار سے متفق نہیں ہوں۔ میں نے اعتراف کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سزا معطل کرنے کا بیان دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لنڈے کے کپڑوں پر 200 روپے فی کلو ٹیکس پر تاجر بلبلا اٹھے
مکالمہ اور دلائل
چیف جسٹس نے امجد پرویز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پہلے علی ظفر کو سن تو لینے دیں کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ ایک جیل ٹرائل تھا، 29 جنوری کو جرح کا حق ختم کیا گیا، 30 جنوری کو بشری بی بی کا 342 کا بیان رات 11 بجے کے قریب ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بارسلونا میں وزیرِ مال و کسٹوڈین آزاد جموں و کشمیر چوہدری اخلاق کے اعزاز میں راجہ نامدار اقبال خان کی استقبالیہ تقریب، پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی شرکت
عدالت کی ہدایات
اسلام آباد ہائیکورٹ نے علی ظفر کو بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی سے ہدایات لینے کیلئے وقت دیا۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ علی ظفر صاحب، آپ نیب پراسیکیوٹر کے بیان پر کیا کہتے ہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں اس حوالے سے اپنی گزارشات رکھنا چاہتا ہوں۔
سماعت کا نتیجہ
جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ دو ہی طریقے ہیں: ایک تو آپ امجد پرویز کی بات مان لیں، یا پھر کیس ٹرائل کورٹ میں فرد جرم سے دوبارہ شروع ہو۔ اگر آپ یہ دونوں نہیں مانتے تو ہم پھر تکنیکی خرابیوں کی طرف جائیں گے۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میری نظر میں سزا کا یہ فیصلہ برقرار رہ ہی نہیں سکتا۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 21 نومبر تک ملتوی کردی۔








