حکومت کا پی آئی اے کی نیلامی کیلئے دوبارہ بولیاں طلب کرنے کا فیصلہ
پی آئی اے کی نجکاری: نئے بولیاں طلب
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے دوبارہ بولیاں طلب کرنے کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہمایوں دلاور کیخلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کیس؛ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے جسمانی ریمانڈ معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اجلاس میں بحث
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹر طلال چوہدری کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نجکاری کا اجلاس ہوا، جس میں پی آئی اے کے لیے قیمت سے کئی گنا کم بولی آنے کی وجوہات بھی زیر بحث آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: عاشق نے گھر میں گھس کر لڑکی کو تیزاب پلا دیا
وزیر نجکاری کی وضاحت
وزیر نجکاری علیم خان نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے دوبارہ بولیاں مانگی جائیں گی۔ پی آئی اے میں 830 ارب نقصانات تھے، جن میں سے 623 ارب کے بقایا جات کو ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کیا گیا، جبکہ باقی 200 ارب کو پی آئی اے کے ساتھ ہی رہنے دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کارساز حادثے کے کیس میں مقامی عدالت نے ملزمہ نتاشہ دانش کو بری کر دیا
دوبارہ بولیوں کا عمل
سیکریٹری نجکاری کمیشن نے وضاحت کی کہ پی آئی اے کی نجکاری کے پہلے عمل کے دوران کافی حد تک کام ہو چکا ہے، لہذا دوبارہ بولیوں کی طرف جانے پر یہ ایک مختصر عمل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کی قیمت کو کنٹرول کرنے کیلئے بڑا فیصلہ کر لیا گیا
مستقبل کی توقعات
وفاقی وزیر علیم خان نے کہا کہ پی آئی اے کی دوبارہ نجکاری کا عمل جاری ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا نجکاری پر بھرپور فوکس ہے، اور مستقبل میں نجکاری سے متعلق کوئی اچھی خبر ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں منافع بخش ادارہ بننے کا مکمل پوٹینشل موجود ہے۔
حکومت کی جانب سے عزم
انہوں نے مزید کہا کہ میں آج بھی کہتا ہوں کہ پی آئی اے ایک منافع بخش ادارہ بن سکتا ہے، اگر پی آئی اے کو بیچنا ہے تو حکومت کو بڑا دل کرنا پڑے گا۔