پی ٹی آئی والے اس بار اٹھائے گئے تو 2،3 ماہ پتا بھی نہیں چلے گا کہ کہاں گئے؟ سابق گورنر سندھ محمد زبیر
سابق گورنر سندھ کی تشویش
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ اس مرتبہ اگر کوئی پی ٹی آئی کارکن اٹھایا گیا تو 2،3 ماہ اس کے گھر والوں کو یہ بھی پتا نہیں چلے گا کہ وہ کہاں ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: معاملہ حکمت و فہم و فراست کے ساتھ ڈیل کیا جاتا تو عمران خان جو تیسرا رمضان جیل میں گزار رہا ہے شاید آج اڈیالہ جیل کے بجائے ہسپتال میں ہوتا، علی محمد خان
احتجاج کی حکمت عملی
آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا احتجاج زیادہ لمبا نہیں چلے گا۔ تحریک انصاف کی حکمت عملی یہ ہے کہ دباؤ بنا کر رکھا جائے، تاہم حکومت کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو بچا لے گی۔ اس کے لیے پورے پاکستان خاص طور پر پنجاب میں جو رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی، ان سے خبریں بنا کر امریکا میں پہنچوانے میں پی ٹی آئی کامیاب ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں بارشوں اور برفباری کا نیا سسٹم داخل
دھرنے کی مشکلیں
ان کا کہنا تھا کہ دو تین دن سے زیادہ دھرنا دینا آسان کام نہیں ہے۔ جو لوگ آئیں گے انہیں کہاں ٹھہرائیں گے اور کیا بندوبست کریں گے؟ سابق گورنر کا کہنا تھا کہ احتجاج کو کم از کم جزوی کامیاب بنانے کے لیے پی ٹی آئی کو اپنے ورکرز نکالنے ہوں گے، حالانکہ ورکرز کافی تھک چکے ہیں۔
کارکنوں کی گرفتاری کا خدشہ
ابھی چوبیس نومبر قریب آئے تو ورکرز کو اٹھایا جائے گا، اور ان کے لیڈرز کو بھی اٹھایا جائے گا۔ وہ چھپتے چھپتے پھریں گے۔ اگر ان کو اس بار اٹھایا جائے گا، تو دو تین مہینے تک ان کے گھر والوں کو بھی نہیں پتا چلے گا کہ وہ گئے کہاں۔








