جو بھی پاکستان کی سکیورٹی میں رکاوٹ بنے گا، اسے نتائج بھگتنا ہوں گے، آرمی چیف کا نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی اجلاس سے خطاب
آرمی چیف کا اعلان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ آئین ہم پر پاکستان کی اندرونی، بیرونی سکیورٹی کی ذمہ داری عائد کرتا ہے اور جو بھی پاکستان کی سکیورٹی میں رکاوٹ بنے گا، ہمیں کام کرنے سے روکے گا اسے نتائج بھگتنا ہونگے۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی قومی سانحہ، تمام ملزمان کیفر کردار تک پہنچیں گے، رانا تنویر حسین
نیشنل ایکشن پلان کی اہمیت
جیو نیوز کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی اجلاس سے خطاب میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے، اس جنگ میں کوئی یونیفارم میں ہے اور کوئی یونیفارم کے بغیر اور ہم سب کو مل کر دہشت گردی کے ناسور سے لڑنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ادارے نہیں چلا سکتے تو کس بات کی گورننس، چھوٹے طیارے کی قیمت میں ایئر لائن بیچ دی: حافظ نعیم الرحمان کھل کر بول پڑے
آئینی ذمہ داریاں
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب پر آئین پاکستان مقدم ہے، آئین ہم پر پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی کی ذمہ داری عائد کرتا ہے اور جو بھی پاکستان کی سکیورٹی میں رکاوٹ بنے گا، ہمیں کام کرنے سے روکے گا اسے نتائج بھگتنا ہونگے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ رائزنگ سٹارز، پاکستان شاہینز نے یو اے ای کو شکست دےکر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا
امن و امان کے لئے قربانیاں
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے گورننس میں موجود خامیوں کو روزانہ اپنے شہیدوں کی قربانی دے کر پورا کر رہے ہیں۔
اجلاس کی تفصیلات
خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں نیشنل ایکشن پلان پر ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہوئے۔








