جو بھی پاکستان کی سکیورٹی میں رکاوٹ بنے گا، اسے نتائج بھگتنا ہوں گے، آرمی چیف کا نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی اجلاس سے خطاب
آرمی چیف کا اعلان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ آئین ہم پر پاکستان کی اندرونی، بیرونی سکیورٹی کی ذمہ داری عائد کرتا ہے اور جو بھی پاکستان کی سکیورٹی میں رکاوٹ بنے گا، ہمیں کام کرنے سے روکے گا اسے نتائج بھگتنا ہونگے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونیوالے عام انتخابات میں کتنے امیدوار حصہ لیں گے؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
نیشنل ایکشن پلان کی اہمیت
جیو نیوز کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی اجلاس سے خطاب میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے، اس جنگ میں کوئی یونیفارم میں ہے اور کوئی یونیفارم کے بغیر اور ہم سب کو مل کر دہشت گردی کے ناسور سے لڑنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے پولیو کا خاتمہ ضروری ہے: وزیراعظم
آئینی ذمہ داریاں
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب پر آئین پاکستان مقدم ہے، آئین ہم پر پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی کی ذمہ داری عائد کرتا ہے اور جو بھی پاکستان کی سکیورٹی میں رکاوٹ بنے گا، ہمیں کام کرنے سے روکے گا اسے نتائج بھگتنا ہونگے۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 5 خوارج ہلاک، 4 جوان شہید
امن و امان کے لئے قربانیاں
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے گورننس میں موجود خامیوں کو روزانہ اپنے شہیدوں کی قربانی دے کر پورا کر رہے ہیں۔
اجلاس کی تفصیلات
خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں نیشنل ایکشن پلان پر ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہوئے۔








