جی ایچ کیو حملہ کیس: شیخ رشید کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ محفوظ
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) انسداد دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی بریت کی درخواستوں پر سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا، جو تھوڑی دیر میں سنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں سفیر پاکستان کا دورہ کیلیفورنیا، بزنس لیڈرز اور کمیونٹی شخصیات سے ملاقات
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں سانحہ 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے واثق قیوم، صداقت عباسی، امجد نیازی، شیریں مزاری، اور میجر طاہر صادق کی بریت کی درخواستوں پر سماعت مکمل کرلی جبکہ سرکاری پراسیکیوٹرز کے بھی دلائل مکمل ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے بعض علاقوں میں ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی
وکلا کی دلائل
وکلا صفائی نے بری کرنے جبکہ سرکاری وکلا نے درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا کی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کچہری دھماکہ، سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، محسن نقوی
شیخ رشید احمد کا بیان
بعدازاں عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں شیخ رشید احمد کی بریت کی درخواستوں پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا، فیصلہ کچھ دیر میں سنائے جانے کا امکان ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں، شیخ رشید احمد نے کہا کہ سیاستدان کبھی بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرتے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل حالات ہیں لیکن سیاست دان مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میرے شوہر اور فیملی نہیں چاہتی میں اداکاری کروں: غنیٰ علی
مقدمے میں بے گناہی
شیخ رشید احمد نے یہ بھی کہا کہ جتنے بے گناہ لوگوں کو اس کیس میں پکڑا گیا ہے، ان کی رہائی ہونی چاہیے۔ واثق قیوم عباسی اور صداقت عباسی اپنے بیان سے پیچھے ہوگئے، جس کی وجہ سے ان کے کیسز بے جان ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے وکلا نے بریت کی درخواستوں پر آئین اور قانون کے مطابق دلائل دیئے۔
مقدمے کی کمزوری
انہوں نے یہ بیان کیا کہ ہمارے کیس میں کوئی جان نہیں ہے، وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ مقدمے میں سینکڑوں ملزمان ہیں، اور استغاثہ نے آج اپنا کمزور انداز میں کیس لڑا۔








