بار بار شکایت کرنے سے بیماری کا سامنا کرنا پڑے گا

آئیے ایک عام صورتحال کا تصور کریں۔ دو لوگ تیزی سے چلتے ہوئے سڑک پر ایک دوسرے کے قریب سے گزر رہے ہیں۔ وہ دوست، ساتھی کارکن یا جاننے والے ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک نے سلام کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ کیسے ہیں؟' دوسرے کا خود بخود جواب آتا ہے: 'چھوڑیں جی، اتنا کافی نہیں ہے۔' تھوڑی دیر بعد ہر ایک اپنے انداز سے گفتگو کو آگے بڑھاتا ہے۔

مختصر ملاقات کے شروع ہوتے ہی گلے شکوے شروع ہوجاتے ہیں۔

21ویں صدی میں ترقی یافتہ معاشرے میں بھی اس قسم کے رویے سماجی رابطوں کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ درحقیقت، ٹریفک، موسم، کام یا مالی مشکلات کے بارے میں شکایات سننا ایک عام بات ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ بے ضرر اور یہاں تک کہ بہتری کی علامت ہوتی ہے کیونکہ اس سے جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔

تاہم، بات بات پر شکایت کرنے والوں اور افسوسناک تبصرے سننے والوں دونوں پر اس کا جذباتی، ذہنی، اور یہاں تک کہ جسمانی صحت پر نمایاں اثر ہوتا ہے۔

روزمرہ کا واقعہ

روزمرہ کا واقعہ

یہاں ہم منفی سمجھے جانے والے حالات کی وجہ سے عدم اطمینان، مایوسی یا تکلیف کے بار بار اظہار پر توجہ دیں گے۔ یہ تقریباً ایک عالمی مسئلہ ہے جو خاندان، کام اور سماجی سیاق و سباق میں مزید دیکھا جا سکتا ہے۔

کبھی کبھار شکایت انسانی جبلت ہے۔ جذباتی اور جسمانی تھکن تب ہوتی ہے جب یہ منفی مزاج ہمارے روزمرہ کے معمولات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

لیکن ہم اتنی شکایت کیوں کرتے ہیں؟ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسا اس وجہ سے ہوتا ہے تاکہ پریشانی ختم ہو سکے یا اس کا مقصد اپنے مؤقف کی تائید حاصل کرنا ہوتا ہے۔

اس وقت تک یہ ہمارے سماجی رابطوں کے لیے ایک حکمت عملی ہے جو کہ انسان خود اختیار کرتا ہے۔ مسئلہ تب ہوتا ہے جب یہ طرز عمل مستقل عادت میں بدل جائے۔

یہ ایک ایسی صورت حال ہے جو سوشل نیٹ ورکس کے استعمال اور پھر غلط استعمال سے بدتر ہوتی جاتی ہے، جہاں نوجوانوں اور بااثر صارفین کے لیے یہ عام سی بات بن جاتی ہے کہ وہ اپنے فالورز کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یا خاص بحث چھیڑنے کے لیے یہ سب کرتے ہیں۔

اگرچہ یہ تحقیق کا ایک اہم شعبہ ہے اور اس کے لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہے، نیورو سائنس نے پہلے ہی شکایت کی ’ایٹولوجی‘ یعنی ہر چیز کے لیے ذمہ دار کسی اور چیز کو قرار دینے کی روش اور اس کے نتائج کا جائزہ لیا ہے۔

مختلف تحقیقات سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ انسانی دماغ کو خطرات اور مسائل کی نشاندہی کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ ’منفیت‘ پر توجہ مرکوز کرنا اتنا آسان کیوں ہے اور کیوں کچھ لوگ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ شکایت کرتے ہیں۔

یہ ایک ارتقائی طریقہ کار بھی ہے۔ انسانی دماغ منفی باتوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے کیونکہ اس نے اسے ہزاروں سال پہلے حقیقی خطرے کو دکھایا تھا اور اس کے زندہ رہنے کے امکانات میں اضافہ ہوا تھا۔

یہ اثر جسے منفی تعصب کہا جاتا ہے جدید ماحول میں نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ ’بری چیز‘ پر مسلسل توجہ مرکوز کرنے سے لوگوں کے دنیا کو دیکھنے کے انداز میں تبدیلی آ سکتی ہے اور اس طرح شکایت پر مبنی نئی بات چیت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ہر وقت شکایت یا پچھتاوے کا عمل دماغ میں ساختی تبدیلیوں کا سبب بن سکتا ہے جس کے نتیجے میں، مسائل کو حل کرنے اور دیگر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شکایت کنندگان مسائل کو حل کرنے، فیصلہ سازی یا منصوبہ بندی جیسے کاموں کو کم ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اور بھی مایوسی پیدا کرتا ہے اور نتیجتاً، زیادہ شکایات کا سبب بنتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ روزانہ کی شکایات کا تعلق بے چینی اور افسردگی کی علامات سے ہوتا ہے۔

اس سے منتشر خیالی، افواہوں، کم خود اعتمادی، تھکاوٹ اور ذہنی تھکاوٹ جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جو لوگ ہر چیز کے بارے میں شکایت کرنا بند نہیں کرتے، وہ مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے زیادہ مایوسی اور کم لچکدار ہوتے ہیں۔

رویہ بدلنے کی حکمت عملی

منفی رویے سے نکلنے اور ذہنی پریشانی سے نکلنے کے لیے چند رہنما اصول یہ ہیں:

شکرگزار رہیں:

ہمارے پاس جو کچھ ہے اس پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اس لمحے پر توجہ مرکوز کرنا شکر گزاری کو فروغ دیتا ہے۔ جو نعمتیں ہمیں میسر ہیں ان کا ادراک ہمارے نکتہ نظر کو بدل دیتا ہے۔

حل تلاش کریں:

کسی صورت حال کو بہتر بنانے کے ممکنہ اقدامات کی فہرست بنانا ہمیں کنٹرول کا احساس دیتا ہے، جس سے ہمیں لگتا ہے کہ ہم اس معاملے پر قابو پا سکتے ہیں، اور ایسا کرنے سے مایوسی کم ہوتی ہے۔

اپنی باتوں پر توجہ دیں:

سائیکونیورو لنگوئسٹکس ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم جو زبان استعمال کرتے ہیں اس سے باخبر رہنا اور اسے زیادہ مثبت یا غیرجانبدار بنانے کے ذریعے اپنی سوچ کو تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

دوسروں کے ساتھ حدود طے کریں:

یہ ایک حفاظتی طریقہ کار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسی گفتگو سے پرہیز کریں جس میں منفی رویہ ہو یا مسائل کے لیے زیادہ تعمیری نقطہ نظر پیش کریں۔

بیشک، مسلسل شکایت کرنے کی غیر صحت مند عادت سے آگاہ ہونا اور اسے تبدیل کرنے کی کوشش کرنا زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ یہ ایک ایسا مقصد ہے جو ہر فرد کی ذاتی نشوونما کا حصہ ہے اور اسے نفسیاتی علاج کی مدد سے تقویت دی جا سکتی ہے۔

اس سے پہلے کہ آپ دوبارہ شکایت کریں، اس کے ساتھ آنے والے ذہنی، جذباتی اور سماجی اثرات پر غور کریں۔ اور یاد رکھیں کہ شکایت کرنا منفی ردعمل نہیں ہے، مگر کہیں یہ عادت نہ بن جائے۔ ہم کامل نہیں ہیں، ہم انسان ہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...