دوسروں کی خواہش کے مطابق اپنے روزمرہ معمولات انجام دینے کے ذہنی فوائد بہت حد تک اپنی ذات سے نفرت و حقارت کے اظہار کے برابر ہیں

مصنف اور مترجم

مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 55

یہ بھی پڑھیں: سینیٹر اعجاز چودھری کیخلاف کیا شواہد ہیں؟ سپریم کورٹ نے پولیس کو مزید شواہد پیش کرنے کی ہدایت کردی

معاشرتی ہم آہنگی اور ہمدردیاں

آپ اس قسم کے معاشرے کے ساتھ قطعی طور پر ہم آہنگ ہو جاتے ہیں جو اس قسم کے روئیے کو پسند کرتا اور سراہتا ہے اور آپ کئی لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کر لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کے معروف مذہبی رہنما فتح اللہ گولن امریکہ میں انتقال کر گئے

ذاتی نفرت اور فرار

دوسروں کی مرضی اور خواہش کے مطابق اپنے روزمرہ معمولات زندگی انجام دینے کے ذہنی فوائد بہت حد تک اپنی ذات سے نفرت و حقارت کے اظہار کے فوائد کے برابر ہیں۔ درحقیقت اپنی ذمہ داری سے فرار اور اجتناب پر مبنی رویہ، تبدیلی اور خطرہ مول لینے کا عمل، خود شکستی، سوچ، انداز فکر اور رویے کی بنیاد ہے۔ اس رویے کی اپنائیت نہایت آسان، طمانیت بخش اور کم از کم خطرے کا باعث ہے۔ دوسروں کی مرضی اور خواہش کے مطابق عمل ایک ضرورت کے لحاظ سے قابل معافی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

خوشنودی اور رضامندی کا حصول

دوسरों کی خوشنودی اور رضامندی کے حصول پر مبنی طرز عمل کی عظیم استہزائی نوعیت پر ایک نظر

ایک لمحے کے لیے اس چھوٹی سی سحرانگیزی میں شریک ہو جائیے۔ فرض کریں کہ آپ واقعی ہر شخص کی خوشنودی اور رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کا حصول آپ کے لیے ممکن تھا۔ مزید فرض کریں کہ یہ ایک تعمیری اور صحت مندانہ ہدف اور مقصد تھا۔ اب یہ چیز اپنے ذہن میں رکھتے ہوئے یہ سوچیے کہ اپنے اس مقصد و ہدف کے حصول کے لیے بہترین اور تیزترین طریقہ کیا ہوتا؟

یہ بھی پڑھیں: آسٹرالوجر سامعہ خان نے بھی 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کے لوگوں سے پارٹیاں تبدیل کروانے اور سیاست چھڑوانے کا دعویٰ کردیا

محبوب شخصیت کی تلاش

جواب دینے سے قبل اپنی زندگی میں موجود اس ایک فرد کے متعلق سوچیے جسے سب لوگ پسند کرتے ہیں۔ یہ فرد کیسا ہے؟ اور اس کا رویہ اور طرز عمل کیا ہے؟ اس میں کیا خوبی اور صلاحیت ہے کہ سب لوگ اس کی طرف کھچے چلے آتے ہیں؟ ممکن ہے کہ آپ کے ذہن میں کوئی ایسا شخص ہو جو نہایت واضح موقف رکھتا ہو اور جو دوسروں کی رضامندی اور خوشنودی سے بے نیاز ہو۔

یہ بھی پڑھیں: بگ بیش لیگ، سست ترین بیٹرز، رضوان اور بابر کی فہرست میں ٹاپ پوزیشنیں

استہزائی نظریہ

کیا یہ استہزائی نظریہ نہیں ہے کہ جو لوگ دنیا میں شہرت و ناموری کے خواہش مند نہیں ہوتے، انہیں سب سے زیادہ شہرت و ناموری حاصل ہوتی ہے؟ جن لوگوں کو کامیابی کی خواہش نہیں ہوتی، انہیں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا قطر کے وزیر مملکت ڈاکٹر محمد بن عبدالعزیز الخلیفی سے ٹیلیفونک رابطہ

کہانی: خوشی کی تلاش

ذیل میں ایک مختصر سی حکایت پیش خدمت ہے جو اس نظریے کو ثابت کرتی ہے کہ اگر دوسروں کی خوشنودی اور رضامندی کی ضرورت کو ترک کر دیا جائے تو پھر بھی خوشی حاصل ہوتی ہے:

”ایک بڑی بلی نے ایک چھوٹی بلی کو دیکھا جو اپنی دم کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ اس نے چھوٹی بلی سے پوچھا: ”تم کس چیز کے پیچھے بھاگی جا رہی ہو؟“ چھوٹی بلی کہنے لگی: ”میں نے سنا ہے کہ ایک بلی کے لیے سب سے بہترین چیز خوشی ہے اور خوشی میری دم میں ہے، اس لیے میں اپنی دم کے پیچھے بھاگ رہی ہوں اور جب میں اپنی دم پکڑ لوں گی تو پھر میں خوشی حاصل کر لوں گی۔“
بڑی بلی نے کہا: ”میرے بچے، میں نے بھی اس کائنات کے مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔ میں نے بھی یہی محسوس کیا ہے کہ خوشی میری دم میں ہے لیکن میں نے محسوس کیا ہے کہ میں جس چیز کے تعاقب میں ہوتی ہوں‘ مجھ سے دور ہوجاتی ہے اور جب میں اس کا خیال چھوڑ دیتی ہوں، تو یہ ہر جگہ اور ہمیشہ میرے پاس آ جاتی ہے۔“

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...