راولپنڈی اور اسلام آباد کو 33 مقامات سے بند کرنے کا سلسلہ جاری
راولپنڈی اور اسلام آباد کی صورتحال
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) راولپنڈی اور اسلام آباد کو 33 مقامات سے بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی مسافر کھانا، پانی یا چہل قدمی کے لیے نیچے اترا ہو اور گاڑی کی روانگی تک اپنے ٹھکانے پر واپس نہ پہنچ سکا ہو تو زنجیر کھینچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
احتجاج کی تیاری
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 24 نومبر کو اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہروں میں داخل ہونے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تحقیقی کمیٹی کی تشکیل: خیبرپختونخوا کی سرکاری املاک کا استعمال ڈی چوک احتجاج میں
بند کی جانے والی سڑکیں
فیض آباد سمیت 6 مقامات کو کنٹینرز رکھ کر بند کر دیا گیا ہے، جن میں فیض آباد، آئی جے پی روڈ، روات ٹی چوک، کیرج فیکٹری، مندرہ اور ٹیکسلا روڈ شامل ہیں۔ جبکہ کچہری چوک کو یکطرفہ ٹریفک کے طور پر چلایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے اور ٹی 20 سریز کھیلنے پاکستان کرکٹ سکواڈ زمبابوے پہنچ گیا
رابطوں کی بندش
اسلام آباد اور راولپنڈی کی تمام رابطہ سڑکوں کو مکمل سیل کیا جائے گا، اور جڑواں شہروں کو 33 مقامات سے بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
حکومتی موقف
اس حوالے سے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ حکومت نے اسلام آباد سیل کر کے احتجاج کی کامیابی پر مہر لگا دی ہے۔
بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کا ملک کے دیگر شہروں سے رابطہ منقطع ہے، اور حکومت عوام کی زندگی اجیرن کرنے کے بجائے عوام کا حق واپس کرے۔ حکومت بچانے کیلئے پاکستان کو بند کر دیا گیا ہے۔








