قاہرہ اور لندن کے عجائب گھروں میں مقبرے سے نکلنے والے نوادرات موجود ہیں جو اتنی بڑی تعدادمیں ہیں کہ اپنا ایک علیٰحدہ عجائب گھر بن سکتا ہے.
مصنف کی معلومات
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 71
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے اور ٹی 20 سہ ملکی سیریز کے لیے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی
مقبرہ کی تعمیر شروع
اس کا مقبرہ ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں ہی تھا کہ ناگہانی موت نے اسے آ لیا، جس کے باعث یہ مقبرہ بہت ہی مختصر اور ادھورا سا رہ گیا۔ جن دنوں اس کی بعداز مرگ رسومات جاری تھیں، اسی دوران انتہائی جلد بازی میں اس کے ادھورے مقبرے کی تزین و آرائش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لیسکو کی قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ہمراہ بڑی کارروائی، کروڑوں روپے کی بجلی چوری پکڑی گئی
از سر نو تزین و آرائش
اس کی دیواروں پر پلاسٹر کر کے ان پر مختصر سی تاریخ لکھیں گئی اور روائتی تصاویر بنا دی گئیں۔ ابھی رنگ بھی پوری طرح خشک نہیں ہوئے تھے کہ اس کی ممی وہاں مستقل قیام کے لئے آ پہنچی۔ حیرت انگیز طور پر اتنے کم وقت میں اس مقبرے کے اندر اتنے قیمتی نوادرات اور زیورات رکھ دیئے گئے تھے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی کی لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زید النہیان، نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقات
ملکہ نفرتیتی کی محبت
کنگ توت کی والدہ ملکہ نفرتیتی بہت طاقتور اور امیر ترین ملکہ تھی۔ یہ سارا کچھ غالباً اس نے اپنے لاڈلے بیٹے کی محبت میں کیا تھا، جو عین عالم شباب میں اس کا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نظریہ زور پکڑ رہا ہے کہ صدر آصف زرداری اور شہباز شریف اعزاز نہیں، بلکہ بوجھ ہیں، فی الحال اس نظریے کی جیت ہوئی جو سولین سیٹ اپ کو ریاست کے لیے بہترین سمجھتے ہیں: سہیل وڑائچ
نوادرات کی دریافت
کوئی نوے برس پہلے یہ نوادرات اسی حالت میں باہر نکال لیے گئے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ یہ مدفن نامعلوم وجوہات کی بنا پر چوروں اور لیٹروں کی پہنچ سے دور رہا، اور ریت کے ٹیلوں کے نیچے انتہائی محفوظ حالت میں دبا رہنے کی وجہ سے منظر عام پر نہ آیا۔ دوسرے مقبروں کی طرح اس کا خزانہ بے رحم لوٹ مار سے بچا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
سراغ لگانے کا واقعہ
1922ء میں اس مقبرے کا سراغ لگایا گیا۔ جب سائنس اور تاریخ دان مہینوں کی جان توڑ مشقت کے بعد اس کے اندر داخل ہوئے تو ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے بانی کی صحت کے بارے میں تشویش، نئے احتجاج کے لیے کنٹینر تیار، کسی بھی وقت کسی بھی شہر کی طرف موڑ سکتا ہے: شفیع جان
کنگ توت کا تابوت
اندر اتنا زیادہ اور قیمتی سامان پڑا تھا جس کی قیمت کا کوئی اندازہ ہی نہ تھا۔ سب سے قیمتی چیز کنگ توت کا اپنا سونے کا تابوت تھا، جو نو تہوں میں بنایا گیا تھا۔ جستجو کے بعد پتہ چلا کہ صرف اس تابوت میں ایک سو دس کلو گرام سے زیادہ سونا استعمال ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی ملکیت والی کمپنی وولوو کارز نے 3 ہزار ملازمین نکالنے کا اعلان کر دیا، وجہ کیا بنی؟
دیگر اشیاء اور نوادرات
ٹوٹ ہزاروں کی تعداد میں سنہری اور نقرئی فرنیچر، برتن، نہانے کی چوکیاں، پلنگ اور عبادت کرنے والا سنہری کمرہ بھی سینکڑوں کلو سونے سے بنائے گئے تھے۔ قاہرہ اور لندن کے عجائب گھروں میں ان نوادرات کی بڑی تعداد موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم تمہارے ہمسائے ہیں تمہاری اوقات جانتے ہیں، صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، اب کھلی جنگ ہے، دما دم مست قلندر ہو گا: خواجہ آصف
کنگ توت کی بادشاہت
کنگ توت کو محض آٹھ سال کی عمر میں بادشاہت ملی تھی، تاہم وہ ایک رسمی بادشاہ تھا۔ کاروبار سلطنت غالباً اس کی ماں ملکہ نفرتیتی اور اس کے مشیر ہی چلاتے ہوں گے۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ اس بادشاہ کی دماغی اور جسمانی حالت کچھ کمزور تھی۔
خاندانی کہانی
نوجوانی کے آغاز میں اس نے اپنی بہن سے شادی کی، جس سے اس کے دو بیٹیاں پیدا ہوئیں جو پیدا ہونے سے پہلے ہی مر گئیں۔ اس دوران اس کی موت بھی واقع ہوگئی اور یوں اس خاندان کا قصہ تمام ہوا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








