بھارت میں ایک اور قدیم مسجد شہید کرنے کی تیاریاں، مسلمانون مشتعل ، پولیس سے جھڑپوں میں ہلاکتوں کی اطلاعات

مسجد کی شہادت کی تیاری
لکھنؤ(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں ایک اور قدیم مسجد شہید کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جس کے باعث مسلمانوں میں اشتعال پایا جا رہا ہے جبکہ پولیس سے جھڑپوں میں ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصل ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام سے متعلق کیس ؛26ویں آئینی ترمیم سے متعلق جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ ملک کے دلچسپ ریمارکس
جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتیں
تفصیلات کے مطابق مودی حکومت ایک اور قدیم مسجد شہید کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے، مسلمان مظاہرین کی پولیس کے ساتھ اتوار کو جھڑپ ہوئی جس میں کم از کم 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔ اتر پردیش کے سنبھل شہر کی پولیس کے مطابق ہندو پنڈت نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ 17ویں صدی کی شاہی جامع مسجد ایک ہندو مندر پر تعمیر کی گئی۔ عدالت نے مسجد کے سروے کا حکم دیا جس پر ایک ٹیم مسجد میں داخل ہوئی اور مسلمان مشتعل ہوگئے۔ اس بات پر تحقیق ہو رہی تھی کہ آیا 17ویں صدی میں مندر پر مساجد تعمیر کی گئی ہیں۔ تصادم میں 2 افراد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ بات شمالی ریاست اتر پردیش کے سنبھل میں ایک پولیس افسر پون کمار نے "اے ایف پی" کو بتائی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں واٹس ایپ اور انسٹاگرام تک رسائی میں مشکلات: سینکڑوں شکایات کے باوجود حکومت بے خبر
پولیس اور مظاہرین کی جھڑپ
انہوں نے مزید کہا کہ 16 پولیس افسران جھڑپوں کے دوران شدید زخمی ہوئے جبکہ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نیوز ایجنسی نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ 3 افراد کی موت ہو گئی ہے۔ ہندو کارکن گروپوں نے کئی مساجد پر دعویٰ کیا ہے جن کے مطابق صدیوں پہلے مسلم مغل سلطنت کے دوران ہندو مندروں پر تعمیر کی گئی تھیں۔
سرگرمیاں اور نفرت کی ہوا
"جنگ" کے مطابق سڑکوں پر لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب سروے کرنے والوں کی ایک ٹیم ایک مقامی عدالت کے حکم پر سنبھل کی شاہی جامع مسجد میں داخل ہوئی۔ ایک ہندو پجاری کے ذریعہ درخواست دائر کی گئی تھی کہ اسے ایک ہندو مندر کی جگہ پر بنایا گیا ہے۔ اتوار کو مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، جنہوں نے ہجوم کو صاف کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے چلائے۔ اس سال کے شروع میں جب وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک عظیم الشان نئے ہندو مندر کا افتتاح کیا تو ہندو قوم پرست کارکنوں کا حوصلہ بڑھ گیا۔