عظمیٰ بخاری نے بشریٰ بی بی کو سلطانہ ڈاکو قرار دے دیا
عظمیٰ بخاری کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی پتہ نہیں آج کون سی شریعت لارہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتے
لگتا ہے کہ 9 مئی پارٹ 2 کا ارادہ ہے
بانی پی ٹی آئی کے بیٹے احتجاج کیلئے باہر آئے، جن بیٹوں کو اپنے باپ کی فکر نہیں ہے، اس شخص کیلئے لوگوں کے بیٹے مروارہی ہیں۔ یہ 9 مئی پارٹ 2 چاہتے ہیں اور لاشوں کی سیاست چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میانوالی پولیس نے دوسرا بڑا دہشتگردی حملہ ناکام بنا دیا
مذہبی کارڈ کا استعمال
محترمہ نے مذہبی کارڈ کھیلنے کی کوشش کی، آج دروشریف پڑھا۔ پتہ نہیں جان بوجھ کر غلط پڑھا کہ انہیں پڑھنا نہیں آتا۔
یہ بھی پڑھیں: گووندا کی پہلی ویڈیو گولی لگنے کے بعد منظرِعام پر آگئی
بشریٰ بی بی کا کردار
انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی اس وقت سلطانہ ڈاکو کا کردار ادا کررہی ہیں۔ بشریٰ بی بی کو سیاست میں ویلکم کہتی ہوں، اب وہ کھل کر سیاست کریں، ہم بھی کھل کر جواب دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 ججز نے سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر اور سینئریٹی کیس کا فیصلہ چیلنج کر دیا
دشمنانہ ذہن سازی
ان لوگوں اور بھائیوں پر ترس آتا ہے جن کی ذہن سازی کی جا چکی ہے۔ ریاست کمزور نہیں ہوتی، ریاست جواب دے سکتی ہے اور گولیاں چلا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ 2025 کے وینیو کا فیصلہ ہوگیا
علی امین کے احتجاج کا ذکر
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ علی امین کو شرم نہیں آتی، اس کے اپنے صوبے میں آگ لگی ہے۔ علی امین دوسرے صوبے میں تباہی مچا رہاہے۔ ان کا احتجاج ہر وقت پرتشدد ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جب لوگ محبت آمیز رویہ اپنانا چاہیں تو آپ کو چاہیے کہ آپ اپنی ذات کو اہم اور قابل قدر سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ بالکل نیا اور مختلف رویہ اپنائیں
پولیس اہلکاروں پر حملہ
یہ جو پولیس اہلکار مارتے ہیں، وہ پاکستانی نہیں ہیں۔ سرگودھا میں ایف سی اہلکار کو ٹانگ پر گولی ماری گئی، کٹی پہاڑی پر موٹروے کانسٹیبل واجد کو گردن پر گولی لگی۔
طالبان کا طریقۂ واردات
دوسرے بازو پر لگی سر کو ٹارگٹ کرکے گولی مارنا طالبان کا طریقہ واردات ہے۔ ایک طرف ریاست پرحملہ ہورہاہے، دوسری طرف مذاکرات کی بات کررہے ہیں۔








