پانامہ سکینڈل سے متعلق جماعت اسلامی کی درخواست آئینی بینچ نے نمٹا دی
پانامہ سکینڈل کی درخواست کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پانامہ سکینڈل معاملے پر جماعت اسلامی کی درخواست نمٹا دی۔
یہ بھی پڑھیں: 2 سال میں پاکستان کا ریونیو تقریباً دگنا ہوگیا ہے: آئی ایم ایف
سماعت کے دوران کی گئی گفتگو
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق دوران سماعت، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ پانامہ میں مخصوص کیس میں جے آئی ٹی بنائی گئی، علم نہیں پانامہ سکینڈل کے باقی مقدمات کدھر گئے۔ وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ یہی ہمارا موقف ہے کہ باقی کیسز کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: نارووال کی تینوں تحصیلوں میں سیلاب کا سروے مکمل
نیب کے حقوق اور قانونی حیثیت
ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ نیب کو اس سلسلے میں کوئی درخواست نہیں دی گئی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب کسی معلومات پر بھی ایکشن لے سکتا ہے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ نیب کا اختیار ترامیم کے بعد کم ہوگیا ہے، نیب نئی ترامیم کے مطابق ہی معاملے کو دیکھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں جمی جھیل کی سیر کو آنے والے 3 سیاح برف ٹوٹنے سے ڈوب گئے
جماعت اسلامی کی استدعا
وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ نیب ہماری درخواست پر پانامہ کی تحقیقات کرے، پانامہ پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی مثال موجود ہے۔ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ کس کیس میں کیا ہوا عدالت کا اس سے تعلق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کے بیان پر سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجودہ کا ردعمل
جے آئی ٹی کی قانونی حیثیت
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پانامہ سکینڈل میں جے آئی ٹی کس قانون کے تحت بنائی گئی تھی اور کیا نیب قانون میں جے آئی ٹی کی گنجائش ہے۔ وکیل جماعت اسلامی نے بتایا کہ پانامہ سکینڈل میں جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ نیب سے داد رسی نہ ہو تو سپریم کورٹ کے بجائے ہائیکورٹ جایئے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سعودی عرب پہنچ گئے،ورلڈ ڈیفنس شو میں شرکت کریں گے
سٹوڈنٹس یونین کی درخواست
آئینی بینچ نے سٹوڈنٹس یونین بحالی کی درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹس کرتے ہوئے درخواست پر صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔
کیس کی سماعت کا خلاصہ
جسٹس امین الدین خان پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سٹوڈنٹس یونین پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرکے درخواست پر نمبر لگانے کا بھی حکم دیا گیا۔








