3 دن میں اسلام آباد پہنچے، 3 منٹ میں بھاگ گئے: سینئر وزیر سندھ ناصر حسین شاہ
سندھ کی سیاسی صورتحال
سکھر ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سندھ کے سینئر وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ مظاہرین 3 دن میں اسلام آباد پہنچے اور 3 منٹ میں بھاگ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ریاستی اداروں کے خلاف ٹوئٹ کا مقدمہ، مقامی عدالت نے فلک جاوید کی ضمانت منظور کرلی
احتجاج میں کارکنوں کی گرفتاری
سکھر پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ 3 سے 10 منٹ میں ریڈ زون کو خالی کرا لیا گیا، جو رہنما اپنے لیڈر کو چھڑانے آئے تھے، کارکنان کو گرفتار کرا کے بھاگ گئے۔ انہیں صرف عدالتوں سے ریلیف مل سکتا ہے، کسی دوسری صورت میں نہیں۔ جو این آر او مانگ رہے تھے ایسا کچھ نہیں ہو گا، اگر یہ پی ٹی آئی پُرامن بنے گی تب ان کے مسائل حل ہو سکیں گے، حکومت نے انہیں احتجاج کے لیے جگہیں بھی دینے کو کہا مگر میں نہ مانوں والی بات ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاء افسر کہنے لگے؛”آپ کے لئے میاں صاحب نے کچھ پیسے بھیجے ہیں کم ہوں تو بتا دیجئے گا۔ ساتھ ہی ایک تھیلہ میری طرف بڑھادیا“
سرحد کے حالات اور ترقی
ناصر حسین شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ملکی حالات سب کے سامنے ہیں، انتشاری ٹولے کا کام صرف انتشار پھیلانا ہے۔ محسن نقوی کو خراجِ تحسین پیش کروں گا کہ تحمل سے اہم مسئلے کو حل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس چل بسے
غلط معلومات سے بچیں
"جنگ" کے مطابق انہوں نے کہا کہ لوگوں کو گمراہ نہ کریں، پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے، ذاتی طور پر گورنر راج کے حق میں نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی یکجہتی کھیلوں کا چھٹا ایڈیشن 7 نومبر سے ریاض میں شروع ہوگا
صوبوں کے مسائل اور احتجاج
کے پی میں امن و امان کی صورتِ حال بن رہی ہے، کچھ تو فیصلے کرنے پڑیں گے۔ کے پی میں بہتری لانے کے بجائے ان کا کام انتشار پھیلانا ہے۔ پورے سندھ، بلوچستان اور پنجاب سے کتنے لوگ گئے ہیں، انتشاری جتھے میں بیرونِ ممالک کے لوگ بھی تھے، کے پی حکومت احتجاج میں تمام تر وسائل استعمال کر رہی تھی۔ پی ٹی آئی سے کہوں گا کہ انتشار کی سیاست نہ کریں، ملک کو سکون سے رہنے دیں۔
دریائے سندھ کا پانی
ناصر حسین شاہ نے یہ بھی کہا ہے کہ دریائے سندھ کے پانی پر کبھی سودے بازی نہیں ہو سکتی، یہ پی پی کا اصولی مؤقف ہے۔








