چیمپئینز ٹرافی، پاکستان کو کس قسم کا ہائبرڈ ماڈل پیش کیا جائے گا؟
پاکستان کے ہائبرڈ ماڈل پر بات چیت
لاہور (ویب ڈیسک) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں پاکستان کو ہائبرڈ ماڈل پر قائل کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سوات میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا انٹیلی جنس پر مبنی مشترکہ آپریشن،4 خوارج جہنم واصل
ممکنہ ایونٹ شیڈول
ایکسپریس نیوز کے مطابق کرک بز کی رپورٹ کے مطابق ممکنہ شیڈول کے تحت 19 فروری سے 9 مارچ تک ایونٹ میں 15 مقابلے رکھے گئے ہیں، جس میں 10 مقابلے اور ایک سیمی فائنل پاکستان میں کرانے کی تجویز ہے، جبکہ دوسرے سیمی فائنل اور فائنل سمیت 5 میچز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) منتقل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرے دادا اور اُنکے بھائی کھیتی باڑی کرتے تھے لیکن انکی زمینیں ”چاہی“ زمینیں تھیں جن کو بیلوں کی مدد سے کنوؤں سے پانی دیا جاتا تھا۔
ہائبرڈ ماڈل کے چیلنجز
اگر پاکستان ہائبرڈ ماڈل مانتا ہے (جسکی امید کم ہے)، تو براڈ کاسٹرز کو سنگین آپریشنل اور لاجسٹک چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ادھر پی سی بی کو ہائبرڈ ماڈل پر ماننے کی صورت میں رعایت اور اضافی رقم بھی دی جا سکتی ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک سیمی فائنل اور فائنل کے لیے وینیو، ہوٹل اور سفری انتظامات کے لیے بکنگ بھی کروانا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری
میزبانی کے تنازعے
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اب بھی بھارت کے میچز کہاں کروائے جائیں اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کرسکا ہے، جبکہ جنوبی افریقہ کا نام بھی میزبانی کے لیے زیر غور ہے، تاہم جنوبی افریقی بورڈ اس حوالے سے واضح انکار کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے بزرگ پاکستان آئے تو نا جانے کیوں انھوں نے اس علاقے کو مستقل آباد کاری اور قیام کے لیے منتخب کیا جہاں پانی کے لیے کئی کئی میل پیدل چلنا پڑتا
اجلاس میں ممکنہ فیصلے
اجلاس میں فیصلہ اگر ووٹنگ کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ میچز ہائبرڈ ماڈل کے تحت کروائے جائیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ ایونٹ کے میزبان سے محض ایک ٹیم کے شرکت نہ کرنے پر ٹورنامنٹ کو کہیں اور منتقل کیا جائے گا، ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ہے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں شریک بورڈ ارکان سمیت 14 اراکین ووٹ کاسٹ کرسکیں گے۔
پاکستان کی ممکنہ امور
اس فیصلے کے بعد پاکستان ممکنہ طور پر بھارت میں منعقد ہونے والے ٹورنامنٹس سے دستبردار ہوسکتا ہے، جس میں اگلے سال ویمنز ورلڈکپ اور مینز ایشیاکپ کے علاوہ 2026 میں ٹی20 ورلڈکپ بھی شامل ہے۔








