کرم میں جھڑپیں، مزید 5 افراد جاں بحق، 8 روز میں اموات کی تعداد 107 ہوگئی
کرم میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری
پارا چنار(ڈیلی پاکستان آن لائن )کرم میں فریقین کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے باوجود جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں مزید 5 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
جنگ بندی معاہدے کے باوجود جھڑپیں
چند روز قبل کرم میں فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا تاہم اس کے باوجود 8 روز سے جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ پولیس کے مطابق تازہ جھڑپوں میں مزید 5 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہو گئے ہیں، جھڑپوں میں اب تک 55 افراد جاں بحق اور 149 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ کے آئندہ ایڈیشن میں کتنی ٹیمز حصہ لیں گی؟ اعلان ہوگیا
مسافر گاڑیوں پر حملہ
پولیس کا بتانا ہے کہ 21 نومبر کو مسافر گاڑیوں پر حملے میں 52 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ پر آئی ایم ایف کا دباؤ نہیں، دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوگا اور عوام کو بھی ریلیف دیں گے: احسن اقبال
سڑکیں بند، معیشت متاثر
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پشاور پاراچنار مرکزی شاہراہ 8 روز سے بند ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ کا کہنا ہے کہ مرکزی شاہراہ بند ہونے سے افغانستان کے ساتھ خرلاچی بارڈر پر تجارت بھی بند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جذباتی طور پر اسٹیشن پر عموماً 3 طرح کے افراد ہوتے ہیں، ایک وہ مسافر جو اپنوں سے آن ملتے ہیں جیسے برسوں کی جدائی کا روگ کٹ گیا ہو.
انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی معطلی
حالات کشیدہ ہونے کے باعث انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی معطل ہے جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی فورسز کا قلات میں آپریشن، بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشت گرد جہنم واصل
حکومتی اقدامات
ڈپٹی کمشنر جاویداللہ کا کہنا ہے کہ فائر بندی اور جھڑپیں رکوانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، ہنگو، اورکزئی اور کوہاٹ سے مشران کا جرگہ مذاکرات کے لیے پاراچنار پہنچ رہا ہے، فریقین فائر بندی پر راضی ہیں، فائر بندی پر مکمل عملدرآمد کی کوششیں جاری ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا اجلاس
دوسری جانب گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت اجلاس میں بھی کرم میں کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور انہیں فریقین کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کے حوالے سے بریف کیا گیا۔








