آئینی بنچ نے کوئٹہ میں بچے کے اغوا پر ازخود نوٹس نہیں لیا، جسٹس جمال
آئینی بنچ کا نوٹس لینے سے انکار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئینی بنچ نے کوئٹہ میں بچے کے اغوا پر ازخود نوٹس لینے کی تردید کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ہم روکھی سوکھی کھاکر گزارہ کر لیں گے لیکن خوددار قوم کی حیثیت سے اپنی آزادی اور سلامتی کے تحفظ کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بنچ نے کوئٹہ میں بچے کے اغواء سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ بچے کے اغواء سے متعلق خفیہ پیش رفت رپورٹ ہے، استدعا ہے بنچ چیمبر میں جائزہ لے، بچے کی بازیابی کے لیے مشترکہ جے آئی ٹی قائم کرنے پر پیش رفت ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی سابق گرل فرینڈ کو قتل کرکے بیرون ملک فرار ہونے والا ملزم 3 سال بعد ٹک ٹاک نے پکڑوا دیا
جسٹس کے ریمارکس
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ پہلے سے زیر التوا ہے، یہ تاثر نہ لیا جائے کہ آئینی بنچ نے ازخود نوٹس لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد بحال، ملکی ترسیلات میں اضافے کا سلسلہ جاری
دھرنے کا مسئلہ
آئینی بنچ نے چیمبر میں رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز کیا تو وکیل بلوچستان حکومت نے استدعا کی کہ کوئٹہ میں جاری دھرنا ختم کروایا جائے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ لوکل انتظامیہ کا کام ہے، ہمارا نہیں، اگر کوئی معاونت درکار ہو تو وفاق فراہم کرے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین نیب کا بیسٹ ویسٹرن ہوٹل راولپنڈی سینٹرل اور راماڈا پلازا بائے وِنڈھم کے تعمیراتی منصوبے کا دورہ
والد کی درخواست
والد نے عدالت میں پیش ہوکر کہا کہ مجھے میرا بچہ چاہیے۔ اس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے بچے کے والد سے کہا کہ ہر طرف سے تعاون ہوگا، ہم سب آپ کیلئے پریشان ہیں۔ آئی جی صاحب نے ساری تفصیلات چیمبر میں بتائی ہیں، کئی باتیں ایسی ہیں جو نہیں بتائی جاسکتیں، ورنہ تحقیقات خراب ہوں گی۔ ہم رپورٹ سے کافی حد تک مطمئن ہیں، میڈیا اس کیس کی زیادہ تشہیر نہ کرے بچے کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے۔
خطرات کا ذکر
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ میں بچے کا معاملہ نمٹایا نہیں ہے، جتنا دباؤ ہوگا بچے کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے۔








