سیاسی سموگ: لاشیں مل گئیں۔۔۔ تمام کارڈ کس کے ہاتھ میں تھے۔۔؟

مفلسی اور سیاست

موجودہ حالات کے مطابق شعر کا مصرعہ یہ ہونا چاہیے:

مفلسی ”حسِ سیاست“ کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں میں ڈھل نہیں سکتی
”بھوک“ اختیار، اقتدار کی بھی ہوتی ہے اور ان کا بھی آداب سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔ قریبی تو بالکل نہیں، دور پار کا شاید ہو۔۔

یہ بھی پڑھیں: ایندھن بحران، خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال پر پابندی لگادی

ڈی چوک کی صورتحال

اور ڈی چوک پر ”بھوک“ بھی تھی۔۔ جو قیامت کی نظر رکھتے ہیں انہیں دکھائی دی لیکن نہ مری نہ زخمی ہوئی۔
ڈی چوک پر سردی بھی تھی۔۔۔ لیکن دھرتی ماں کو”سیاسی سموگ“ نے لپیٹ میں لے لیا۔۔۔

”ماہرین“ کا دھیان کسی اور طرف ہے۔۔۔
دھواں سرحد پار سے نہیں اندر سے اٹھ رہا ہے۔۔۔
دم گھٹ رہا ہے۔۔۔ سانس لینا بھی محال ہے۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں پی ٹی آئی احتجاج کے حوالے کیا صورتحال ہے؟ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا اہم بیان

معاشی نقصانات

بھارت کو سموگ سے سالانہ 95 ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا اور لاکھوں افراد کی جان کو خطرہ ہے جبکہ ہمیں ”سیاسی سموگ“ یعنی احتجاجی مظاہروں، دھرنوں اور لاک ڈاؤن سے روزانہ کی بنیاد پر 200 ارب روپے سے زائد کے نقصان ہو گیا۔ جی ڈی پی کی مد میں 144 ارب، برآمدات 16 ارب اور ٹیکس ریونیو کی مد میں 26 ارب کا نقصان۔

چند دن راستے بند، سامان کی ترسیل بند، منڈیاں بند، صنعتیں بند، کاروبار بند، تاجروں کا کروڑوں کا نقصان۔۔ کروڑوں زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔۔۔۔ پھر بھی ”آوے ای آوے جاوے ای جاوے“ کا ورد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کا بھارتی الزام مسترد

دھرنے کے نتائج

24 نومبر آئی اور چلی گئی۔۔۔ عوام کی حفاظت ہو نہ ہو، ڈی چوک کی حفاظت ہو گئی۔۔۔ لاشیں بھی مل گئیں۔۔۔ زخمی بھی مل گئے۔۔۔ کسی کو فتح مل گئی۔۔۔ کسی کو ہار میں بھی جیت کا مزہ۔۔۔

محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کو ایٹمی جنگ روکنے کا وہ کریڈٹ نہیں ملا جو انہیں ملنا چاہیے۔ کشمیری ویٹر کا وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری سے مکالمہ۔

سیاست کا جوڑ توڑ

کئی مر گئے مگر سوال زندہ کر گئے۔۔۔۔
تمام ”کارڈ“ کس کے ہاتھ میں تھے۔۔؟
کون کمزور اور کون طاقتور ثابت ہوا۔۔؟
وہ ”وعدے“ یا”انڈر سٹینڈنگز“ کیا تھیں جن کی بنیاد پر بعض کو رہائی ملی، ”سیاسی لاؤنچنگ“ کا ڈھنڈورا کیوں پیٹا گیا ۔۔۔؟

یہ بھی پڑھیں: ایئر پورٹ پر روکے جانے پر اینکر پرسن فرخ وڑائچ کا موقف آگیا

احتجاج کی اہمیت

خیبر پختونخوا سے جواب آ گیا ہے۔۔۔ جانے والے ملک سے باہر نہیں گئے، واپس آنے کیلئے گئے ہیں۔۔۔ وہ کہہ رہے ہیں ”تشدد بھی ہم پر ہوں اور مقدمات بھی ہم پر ہوں، ہم بھاگے نہیں، آپ نے جو کرنا تھا کرلیا اب ہماری باری ہے۔”

یہ بھی پڑھیں: ایک ملازم ایسا بھی ہے جس کے انکریمنٹ لگ لگ کر مراعات جج کے برابر ہو چکیں، وکیل درخواستگزار کے ہائیکورٹ چیف جسٹسز کے اختیارات سے متعلق کیس میں دلائل

عوام کی رائے

عوام میں غصہ ہے۔۔۔ ابھی ختم نہیں ہوا۔۔۔ الیکشن میں ووٹ ڈالنے بھی نکلے اور ”ہر کال“ پر نکل رہے ہیں۔۔۔ سڑکوں پر ڈنڈا، گالی، گولی سب کھا رہے ہیں۔۔۔ اب کوئی شکوہ یا طعنہ نہیں دے سکتا کہ باہر نہیں نکلتے۔

یہ بھی پڑھیں: تجارتی جنگ میں شدت، چین پر ٹیرف 245 فیصد کردیا گیا

سوالات کا ہتھیار

آج کے دور کا اہم ہتھیار”سوال“ ہے جسے پوچھنے کی آزادی چھینی نہیں جا سکتی اور عوام اس ”ہتھیار“ سے لیس ہیں۔۔۔
”فائنل کال“ بھی ابھی ختم نہیں ہوئی۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت بوکھلاہٹ کا شکار، بزدل فوج کی سول آبادی پر گولہ باری، 5 پاکستانی شہری شہید

پہلا قدم

فیصلہ تو کرنا ہی ہو گا۔۔۔ ملک کو ”جاگیردارانہ جمہوریت“ چاہیے یا اصلی جمہوریت۔۔؟

حبیب جالب کی یاد

آخر میں پھر حبیب جالب یاد آ گئے:
ایسے افکار بھی زندہ نہ ہوں گے جن سے
چند لوگوں ہی کی تسکین کا پہلو نکلے
میں ضرور آؤں گا ایک عہد حسیں کی صورت

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...